Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 24
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
اَمْ يَقُوْلُوْنَ
: یا وہ کہتے ہیں
افْتَرٰى
: اس نے گھڑ لیا
عَلَي اللّٰهِ
: اللہ پر
كَذِبًا
: جھوٹ
فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ
: پھر اگر چاہتا اللہ
يَخْتِمْ
: مہر لگا دیتا
عَلٰي قَلْبِكَ
: تیرے دل پر
وَيَمْحُ اللّٰهُ
: اور مٹا دیتا ہے اللہ
الْبَاطِلَ
: باطل کو
وَيُحِقُّ الْحَقَّ
: اور حق کردکھاتا ہے حق کو
بِكَلِمٰتِهٖ
: اپنے کلمات کے ساتھ
اِنَّهٗ
: بیشک وہ
عَلِيْمٌۢ
: جاننے والا ہے
بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
: سینوں کے بھید
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمد ﷺ تمہارے دل پر مہر لگا دے اور خدا جھوٹ کو نابود کردیتا ہے اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے بیشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے
مذمت افتراء علی اللہ و محرومی بدنصیباں از قبول حق و کامیابی مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ام یقولون افتری ...... الی ....... خبیر بصیر “۔ ّ (ربط) ’ گذشتہ آیات میں طالبین دنیا اور طالبین آخرت کا ذکر تھا اور یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) دعوت حق سے آخرت کا فکر پیدا کرنے کے لیے کیسی محنت کرتے ہیں، اور اخلاص وہمدردی کے جذبہ سے ان کی غرض اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ اللہ کے بندے حق اور ہدایت قبول کرکے نجاتوسعادت حاصل کرلیں، اب ان آیات میں ایسے معاندین و متکبرین کا ذکر ہے جو اپنے عناد وتکبر میں اس قدر غرق ہوتے ہیں کہ قبول حق تو درکنار وہ اللہ رب العزت پر افتراء بہتان پردازی سے بھی باز نہیں آتے، تو ان کے رد کے ساتھ یہ بیان کیا جارہا ہے، اللہ رب العزت پر افتراء و بہتان پر دازی سے بھی باز نہیں آتے، تو ان کے رد کے ساتھ یہ بیان کیا جارہا ہے، اللہ رب العزت یہی چاہتا ہے کہ حق اور باطل میں دنیا کے سامنے امتیاز کردیا جائے، اور دلائل حق کے ذریعہ باطل کو مٹا دیا جائے، اسی مقصد کے لیے بعثت انبیاء (علیہم السلام) ہے اور اسی غرض کے لیے کتابیں اور صحیفے نازل کیے گئے اور ان سب کی تکمیل رسول اکرم ﷺ کی بعثت کے ذریعے کی گئی ، ارشاد فرمایا گیا۔ یہ لوگ تو حق وصداقت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو تسلیم کیا کرتے بلکہ یہ لوگ تو آپ ﷺ کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے خدا پر جھوٹ بہتان باندھا ہے کہ نبوت اور وحی الہی کا دعوی کررہے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے علوم ومعارف خرق عادت کے طور پر معجزانہ انداز سے ظاہر اور جارہی ہیں، اور بطورخرق عادت معجزانہ شان سے ایسے علوم ومعارف کا کسی زبان سے جاری ہونا یہ خود دلیل ہے کہ وہ اللہ کی وحی اور اس کی طرف سے عطا کردہ علوم ہیں اور یہ بھی بات ثابت ہے کہ بارگاہ خداوندی سے علوم ومعارف کی عطا صرف صاد ق و برگزیدہ ہی کو ہوسکتی ہے، جھوٹے اور افتراء پردازپر باطنی علوم اور حکمتوں کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، تو اگر اللہ چاہے تو آپ ﷺ کے قلب پر مہر کردے اور بند لگادے جس کے بعد ایسے شخص کی زبان سے علم و حکمت کی کوئی بات ہی جاری نہ ہو مگر پھر بھی وحی الہی اور علوم ومعارف کا یہ سلسلہ جاری رہنا آپ ﷺ کی حقانیت کی دلیل ہے، اور اللہ تعالیٰ اسی طرح باطل کو مٹایا کرتا ہے اور حق کو ثابت ومضبوط کیا کرتا ہے اپنے کلمات و احکام سے جو دلائل شرعیہ سے بھی اور دلائل تکوینیہ ومعجزات سے اس طرح ثابت کیے جاتے ہیں کہ کسی بھی منکر کو اس کے قبول کرنے میں کوئی تامل نہ رہے، بیشک وہ پروردگار دلوں کی باتیں اور احوال بھی خوب جاننے والا ہے، اس لیے کہ اللہ رب العزت سے کسی کے نہ اقوال وافعال مخفی ہیں اور نہ ہی عقائد وہ سب پر مطلع ہے اور اس پر سزا دینے کی بڑی قدرت رکھتا ہے۔ اور وہ پروردگار جس طرح معاندین و مخالفین کے ہر عمل اور عقید ۂ خیال کو جانتا ہے اسی طرح وہ مطیعین ومنیبین کو بھی جانتا ہے، چناچہ وہ تو بہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے اور درگذر کرتا ہے ان کی برائیوں اور خطاؤں سے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو تم کرتے ہو کہ کونسا قول وعمل اخلاص کے ساتھ اور کون سی بات محض زبان سے اور بےاخلاص ہے، لہذا اس پر ویسے ہی ثمرات مرتب ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے ان لوگوں کی عبادت کو جو ایمان لائے اور نیکی کے کام کیے اور ان کو اپنے فضل سے اور ثواب زائد بھی عطا کرتا ہے، جو ان کے عمل کے معیار اور درجہ سے بڑھ کر ہوتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کے واسطے بڑا ہی سخت عذاب ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں پر اس موجودہ صورت حال میں روزہی کو پھیلا دیتا، اور کوئی کسی کا حاجت مندنہ رہتا تو لوگ بغاوت و فساد برپا کردیتے زمین میں کیونکہ ایسی صورت میں نہ کوئی تابع رہتا ہے اور نہ کوئی متبوع، بلکہ ہر ایک آمر مطلق بن جاتا جسکا نتیجہ ظاہر ہے کہ فساد کی صورت میں ظاہر ہوتا، اب اللہ نے اپنی تکوینی حکمت سے ایک دوسرے کا محتاج بنادیا حتی کہ بادشاہ اور امراء خدمت گذاروں کے محتاج ہوگئے، فقراء اور غرباء جو اگرچہ اپنی کمائی میں امراء کے محتاج ہیں، لیکن اس کے بالمقابل امراء بھی ان کے محتاج بنادیئے گئے کہ ان کی خدمت واعانت کے بغیر ان کی زندگی نہیں گذر سکتی، لیکن وہ اتارتا ہے رزق ایک اندازہ کے ساتھ جتنا بھی چاہے اپنی حکمت کے لحاظ سے اس حکمت کے پیش نظر اللہ نے رزق میں مخلوق کے درمیان تفاوت درجات رکھا، جیسا کہ ایک حدیث میں ارشاد ہے ”۔ ان اللہ تعالے قسم بینکم اخلاقکم کما قسم بینکم ارزاقکم “۔ کہ اللہ نے تمہارے درمیان اخلاق کی بھی اسی طرح تقسیم کردی ہے جیسے کہ تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کیے، بیشک وہ پروردگار اپنے بندوں کے احوال پر خوب مطلع ہے، اور خوب ان کو دیکھنے والا ہے ، (آیت) ” فان یشا اللہ یختم علی قلبک “۔ کا عنوان فرض محال کے درجہ میں ہے جیسے (آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک “۔ میں بفرض محال ہی یہ بات آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے بیان کی گئی مقصود محض ایک قانوں الہی اور ایسی بات پر ہلاکت وتباہی کا مرتب ہونے والا نتیجہ بیان کرنا ہوتا ہے، یعنی بفرض محال اگر آپ بھی اللہ پر جھوٹ وبہتان باندھتے تو اللہ رب العزت آپ کے دل پر مہر کردیتا، اور اس کے بعد پھر فرشتہ یہ کلام معجز لے کر آپ ﷺ پر نہ اترتا، اور سلسلہ وحی بند کردیا جاتا، یہ بات بالکل وہی ہے جو اس آیت مبارکہ میں فرمائی گئی تھی، (آیت) ” ولئن شئنا لنذھبن بالذی اوحینا الیک ثم لا تجد لک بہ علینا وکیلا الا رحمۃ من ربک “ (بنی اسرائیل) مگر اس لیے کہ درحقیقت یہ جو کچھ آپ ﷺ فرما رہے ہیں حق اور وحی الہی ہے اور بدباطنوں کا اس کے بارے میں یہ کہنا محض بہتان ہے اس لیے یہ سلسلہ منقطع نہیں کیا جاتا بلکہ وحی الہی کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا تاآنکہ اللہ تعالیٰ باطل کو مٹا کر دنیا کے سامنے ظاہر کر دے گا، اور حق کی حقانیت ثابت اور پختہ ہوجائے گی، حق کو ثابت کرنے والے ظاہر ہے کہ وہ دلائل وبراہین ہیں، جو دلائل آفاق اور دلائل انفس کی نوعیت سے دنیا کو دکھا دئیے گئے، جس کو قرآن کریم نے ارشاد فرمادیا ہے۔ (آیت) ” سنریھم ایتنا فی الافاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق “۔ شیخ الاسلام حضرت علامہ شیبر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں کہ آیت ہذا کی تفسیر میں بہت اقوال ہیں اور اس تفسیر کی رو سے (آیت) ” ویمحوا اللہ الباطل “۔ جملہ مستانفہ ہوا، یعنی اس کا ماقبل جملہ۔ (آیت) ” یختم علی قبلک “۔ کے مضمون پر عطف نہیں بلکہ ایک مستقل مضمون ہے جو حق تعالیٰ کی طرف سے آئندہ اس کی حکمت تکوینیہ سے جو بات پیش آنے والی ہے اس کا بیان ہے کہ اللہ رب العزت باطل کو مٹا دے گا اور حق کو ثابت کرے گا، بعض مفسرین کی رائے میں اس کا عطف یختم کے اوپر ہے، لیکن اس اعراب کی تقدیر میں قدرے تکلف ہے۔ (آیت) ” ھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ میں کبائر سے تائب ہونے والوں کی توبہ کی قبولیت کا ذکر ہے، اور (آیت) ” ویعفوا عن السیئات “۔ میں صغائر سے درگذر کا بیان ہے یا یہ کہہ دیجیے کہ ایک جز یعنی قبول تو بہ کے وعدہ میں مستقل کے گناہوں کی معافی کا بیان فرمایا گیا کہ بندے جب تائب ہوں گے خدا ان کے گناہوں کے مغفرت فرما دے گا، اور دوسرے جز (آیت) ” یعفواعن السیات “۔ میں ماضی کے گناہوں کے متعلق فرمایا کہ خدا تعالیٰ تو شان رحیمی کے باعث درگذر فرماتارہتا ہے۔ لیکن وعدۂ عفو اور معاملہ درگذر سے کسی کو دھوکہ میں نہ پڑنا چاہئے اور اس کی گرفت ومؤاخذہ سے بےفکر نہ ہونا چاہئے، کیونکہ وہ بندوں کے تمام احوال سے باخبر بھی ہے جو وہ کرتے رہتے ہیں تو آئندہ کی عملی زندگی میں مؤاخذہ کی فکر کو قائم کرنے کے لیے فرمادیا، (آیت) ” ویعلم ما تفعلون “۔ ویزیدھم من فضلہ “۔ کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت بندوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور دعا وطلب سے بڑھ کر ان کو عطا فرماتا ہے اور بروایت شقیق بن مسلم (رح) عبداللہ بن مسعود ؓ سے اس کی تفسیر میں یہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت کا اپنے فضل سے ایمان اور تائبین کو زائد عطا فرمانا، شفاعت کا حق ہے ان مذنبین کے لیے جو اپنے گناہوں کے باعث عذاب کے مستحق ہیں۔ (آیت) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ “۔ میں حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کے واسطے تقسیم رزق میں معیار اپنی حکمت ومشیت کو بیان فرمایا کہ وہ اپنی حکمت سے جس کو جتنا چاہتا ہے رزق عطا فرماتا ہے، جس میں یہ صورت ہوتی ہے کہ کسی کو زائد عطا فرماتا ہے، اور غنی کرتا ہے کہ اس کا غنا بھی حکمت کے مطابق ہوتا ہے، اور جس پر رزق کی تنگی فرماتا ہے اس پر فقر بھی حکمت خداوندی ہی سے ہوتا ہے، اور یہ بھی اسکی حکمت ہے کہ ایک زمانہ ایک شخص پر تنگی کا گذرتا ہے تو پھر اس کو فراخی اور غنا عطا کردیا جاتا ہے، کبھی اس کا عکس ہوتا ہے کہ ایک زمانہ فراخی ووسعت کا گذرا، پھر اس کو فقیر وتنگدست کردیا گیا ، آیت مبارکہ میں رزق کی وسعت کا یہ ذکر تمام بندوں کے حق میں ہے ورنہ بعض پر تو رزق کی وسعت متحقق ہے، اور لوشرطیہ کا عنوان دلالت کرتا ہے کہ یہ بسط رزق متحقق نہیں ہوا تو مراد یہ ہوئی کہ اگر اللہ تعالیٰ سب پر رزق کی وسعت کردیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بغاوت وسرکشی کرنے لگتی، اور دنیا میں کوئی صالح اور مطیع نہ رہتا، اور اگر اس کے بالمقابل سب بندون کو فقیر و محتاج بنا دیتا تو سب کے سب اپنے ضعف وعجز کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے اس وجہ سے تقسیم رزق میں بندوں کے درمیان فرق رکھا گیا ہے۔ احادیث میں ہے کہ جب حق تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی ذریت کو نکالا تو آدم (علیہ السلام) نے ان میں دیکھا کہ کچھ غنی ہیں اور کچھ فقیر تو عرض کیا لولا سویت بین عبادک کہ اے پروردگار تو نے اپنے بندوں کے درمیان مساوات وبرابری (رزق میں) کیوں نہ کردی جواب دیا گیا ” احببت ان اشکر “۔ یعنی میں نے یہ چاہا کہ میرا شکر ادا کیا جایا کرے اور یہ بات اسی پر موقوف ہے کہ تفاوت مراتب ہو، علامہ طیبی (رح) کی رائے یہ ہے کہ عباد سے کل بندے مراد نہیں بلکہ اللہ کے وہ خاص بندے ہیں جن کو اللہ نے اپنی ولایت وقرب کی کرامت سے نوازنا تھا کہ اللہ نے ان رزق کو نہیں پھیلایا اگر ان پر رزق پھیلادیا تو وہ بغاوت وسرکشی کا رنگ اختیار کرلیتے اور یہ بات اللہ رب العزت کی سنت ہے کہ وہ اپنے اولیاء مقربین کو غنا و تونگری کی بجائے فقروتنگدستی میں ڈالدیتا ہے چناچہ ایک حدیث کا مضمون ہے۔ اذا احب اللہ عبدا حماہ الدنیا کمایظل احدکم ویحمی سقیمہ المآء “۔ کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو محبوب بنالیتا ہے تو اس کو دنیا اور دنیا کی لذتوں سے اس طرح بچاتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے اس بیمار کو پانی سے بچاتا ہو جس کو پانی نقصان دیتا ہو، علامہ آلوسی (رح) نے اس تفسیر کو پسند نہیں فرمایا، الفاظ کی دلالت سے پہلے بیان کردہ معنی بہتر ہیں، آیت کے ظاہری الفاظ اور اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ اگر تمام بندوں پر رزق پھیلا دیتا تو لوگ زمین میں بغاوت وسرکشی کرنے لگتے بعض حضرات کو یہ اشکال گذرا کہ جس طرح غناوتونگری کے سبب سے بغاوت کا احتمال تھا تو اسی طرح فقر بھی تو بغاوت ونافرمانی کا ذریعہ ہوسکتا ہے ہی کیوں بغاوت کا ذکر فرمایا گیا، تو زمخشری (رح) نے اس کا جواب دیا کہ فقر کے ساتھ بغاوت وسرکشی کم ہوتی ہے اور اکثر مادۂ بغاوت، تونگری اور غنا سے پیدا ہوتا ہے، تو اس وجہ سے بغاوت کو بسط رزق کے ساتھ مخصوص فرما دیا گیا۔ واللہ اعلم۔ (تفسیر روح المعانی ج 25)
Top