Tafheem-ul-Quran - Ash-Shura : 24
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
اَمْ يَقُوْلُوْنَ : یا وہ کہتے ہیں افْتَرٰى : اس نے گھڑ لیا عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر كَذِبًا : جھوٹ فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ : پھر اگر چاہتا اللہ يَخْتِمْ : مہر لگا دیتا عَلٰي قَلْبِكَ : تیرے دل پر وَيَمْحُ اللّٰهُ : اور مٹا دیتا ہے اللہ الْبَاطِلَ : باطل کو وَيُحِقُّ الْحَقَّ : اور حق کردکھاتا ہے حق کو بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات کے ساتھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے اللہ پر جھُوٹا بُہتان گھڑ لیا ہے؟ 43 اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مُہر کر دے۔ 44 وہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کر دکھاتا ہے۔ 45 وہ سینوں کے چھُپے ہوئے راز جانتا ہے۔ 46
سورة الشُّوْرٰی 43 اس سوالیہ فقرے میں سخت ملامت کا انداز پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے نبی، کیا یہ لوگ اس قدر جری اور بےباک ہیں کہ تم جیسے شخص پر افترا، اور وہ بھی افتراء علی اللہ جیسے گھناؤنے فعل کا الزام رکھتے ہوئے انہیں ذرا شرم نہیں آتی ؟ یہ تم پر تہمت لگا تے ہیں کہ تم اس قرآن کو خود تصنیف کر کے جھوٹ موٹ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہو ؟ سورة الشُّوْرٰی 44 یعنی اتنے بڑے جھوٹ صرف وہی لوگ بولا کرتے ہیں جن کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں بھی ان میں شامل کر دے۔ مگر اس کا یہ فضل ہے کہ اس نے تمہیں اس گروہ سے الگ رکھا ہے۔ اس جواب میں ان لوگوں پر شدید طنز ہے جو نبی ﷺ پر یہ الزام رکھ رہے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اے نبی، ان لوگوں نے تمہیں بھی اپنی قماش کا آدمی سمجھ لیا ہے۔ جس طرح یہ خود اپنی اغراض کے لیے ہر بڑے سے بڑا جھوٹ بول جاتے ہیں، انہوں نے خیال کیا کہ تم بھی اسی طرح اپنی دکان چمکانے کے لیے ایک جھوٹ گھڑ لائے ہو۔ لیکن یہ اللہ کی عنایت ہے کہ اس نے تمہارے دل پر وہ مہر نہیں لگائی ہے جو ان کے دلوں پر لگا رکھی ہے۔ سورة الشُّوْرٰی 45 یعنی یہ اللہ کی عادت ہے کہ وہ باطل کو کبھی پائیداری نہیں بخشتا اور آخر کار حق کو حق ہی کر کے دکھا دیتا ہے۔ اس لیے اے نبی، تم ان جھوٹے الزامات کی ذرہ برابر پروا نہ کرو، اور اپنا کام کیے جاؤ۔ ایک وقت آئے گا کہ یہ سارا جھوٹ غبار کی طرح اڑ جائے گا اور جس چیز کو تم پیش کر رہے ہو اس کا حق ہونا عیاں ہوجائے گا۔ سورة الشُّوْرٰی 46 یعنی اس کو معلوم ہے کہ یہ الزامات تم پر کیوں لگائے جا رہے ہیں اور یہ ساری تگ و دود جو تمہیں زک دینے کے لیے کی جا رہی ہے اس کے پیچھے در حقیقت کیا اغراض اور کیا نیتیں کام کر رہی ہیں۔
Top