Tafseer-al-Kitaab - Ash-Shura : 24
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
اَمْ يَقُوْلُوْنَ : یا وہ کہتے ہیں افْتَرٰى : اس نے گھڑ لیا عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر كَذِبًا : جھوٹ فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ : پھر اگر چاہتا اللہ يَخْتِمْ : مہر لگا دیتا عَلٰي قَلْبِكَ : تیرے دل پر وَيَمْحُ اللّٰهُ : اور مٹا دیتا ہے اللہ الْبَاطِلَ : باطل کو وَيُحِقُّ الْحَقَّ : اور حق کردکھاتا ہے حق کو بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات کے ساتھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
(اے پیغمبر، ) کیا (یہ لوگ تمہاری نسبت) کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ (بہتان) باندھا ہے ؟ (سو اس صورت میں) اللہ تو (اس بات پر قادر ہے کہ) اگر چاہے تو تمہارے دل پر مہر لگا دے۔ اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے احکام سے حق کر دکھاتا ہے۔ وہ تو (لوگوں کے) دلوں تک کی باتیں جانتا ہے۔
[17] یعنی اس قرآن کو تصنیف کر کے جھوٹ موٹ اللہ کی طرف منسوب کیا ہے۔ [18] یعنی بفرض محال اگر کوئی بات بھی اللہ کی نسبت جھوٹ بنا کر کہہ دو تو اللہ کو قدرت ہے کہ تمہارے دل پر مہر کر دے پھر فرشتہ یہ کلام لے کر تمہارے قلب پر نہ اتر سکے اور سلسلہ وحی بند ہوجائے بلکہ دیا ہوا بھی سلب کرلیا جائے۔
Top