Tafseer-e-Usmani - Ash-Shura : 24
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
اَمْ يَقُوْلُوْنَ : یا وہ کہتے ہیں افْتَرٰى : اس نے گھڑ لیا عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر كَذِبًا : جھوٹ فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ : پھر اگر چاہتا اللہ يَخْتِمْ : مہر لگا دیتا عَلٰي قَلْبِكَ : تیرے دل پر وَيَمْحُ اللّٰهُ : اور مٹا دیتا ہے اللہ الْبَاطِلَ : باطل کو وَيُحِقُّ الْحَقَّ : اور حق کردکھاتا ہے حق کو بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات کے ساتھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے باندھا اللہ پر جھوٹ سو اگر اللہ چاہے مہر کر دے تیرے دل پر اور مٹاتا ہے اللہ جھوٹ کو اور ثابت کرتا ہے سچ کو اپنی باتوں سے اس کو معلوم ہے جو دلوں میں ہے5
5  یعنی بفرض محال اگر کوئی بات بھی خدا کی نسبت جھوٹ بنا کر کہہ دے تو اللہ کو قدرت ہے کہ تیرے دل پر مہر کر دے، پھر فرشتہ یہ کلام معجزے لے کر تیرے قلب پر نہ اتر سکے اور سلسلہ وحی کا بند ہوجائے۔ بلکہ پہلا دیا ہوا بھی سلب کرلیا جائے کما قال (وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا 86؀ۙ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا 87؀) 17 ۔ الاسراء :86) مگر چونکہ واقع میں قطعاً کذب و افتراء کا شائبہ نہیں۔ اس لیے محض بدبختوں کی قدر ناشناسی اور طعن وتشنیع کی بناء پر یہ فیض منقطع نہیں کیا جاسکتا۔ بیشک اللہ اس کو جاری رکھے گا اور اپنی باتوں سے عملی طور پر جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ ثابت کر کے رہے گا۔ اس وقت سب کو صاف کھل جائے گا کہ فریقین میں جھوٹا اور مفتری کون ہے اور کس کے دل پر اللہ نے فی الواقع مہر لگا دی ہے کہ خیر کے اترنے اور حق کے قبول کرنے کی اس میں مطلقاً گنجائش نہیں رہی۔ رہا یہ سوال کہ اللہ کی وہ باتیں کیا ہیں جن سے جھوٹ ملیامیٹ ہو اور حق ثابت ہوجائے تو میرے نزدیک وہ ہی دلائل وبراہین ہیں جو قرآن اور پیغمبر کی صداقت پر اس نے قائم کی ہیں۔ بالخصوص وہ آیات آنفسیہ و آفاقیہ جن کا ذکر سورة " حم السجدہ " کے آخر پر " سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۔ " کے حاشیہ میں کیا گیا ہے۔ ان آیات کے ظاہر ہونے پر سب کھرے اور کھوٹے دلوں کا حال اعلانیہ واضح ہوجائے گا۔ (تنبیہ) آیت ہذا کی تفسیر میں بہت اقوال ہیں۔ بندہ کے نزدیک بےتکلف یہ ہی مطلب ہے جو اوپر عرض کیا۔ اس تفسیر پر " ۭ وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ " جملہ مستانفہ ہوا۔ جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے اور اکثر محققین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ البتہ مضارع کے معنی مترجم (رح) نے حال کے لیے ہیں جو بالکل صحیح ہیں۔ مگر بندہ کے خیال میں یہاں استقبال لینا زیادہ چسپاں ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت شاہ صاحب قدس سرہ " ۭ وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ " کا عطف " یختم علی قلبک " پر کر رہے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ " یعنی اللہ اپنے اوپر کیوں جھوٹ بولنے دے۔ دل کو بند کر دے کہ مضمون ہی نہ آئے جس کو باندھ سکے اور چاہے تو کفر کو مٹا دے بےپیغام بھیجے۔ مگر وہ اپنی باتوں سے دین کو ثابت کرتا ہے اس واسطے نبی پر اپنا کلام بھیجتا ہے۔ "
Top