Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Ash-Shura : 24
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
اَمْ يَقُوْلُوْنَ
: یا وہ کہتے ہیں
افْتَرٰى
: اس نے گھڑ لیا
عَلَي اللّٰهِ
: اللہ پر
كَذِبًا
: جھوٹ
فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ
: پھر اگر چاہتا اللہ
يَخْتِمْ
: مہر لگا دیتا
عَلٰي قَلْبِكَ
: تیرے دل پر
وَيَمْحُ اللّٰهُ
: اور مٹا دیتا ہے اللہ
الْبَاطِلَ
: باطل کو
وَيُحِقُّ الْحَقَّ
: اور حق کردکھاتا ہے حق کو
بِكَلِمٰتِهٖ
: اپنے کلمات کے ساتھ
اِنَّهٗ
: بیشک وہ
عَلِيْمٌۢ
: جاننے والا ہے
بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
: سینوں کے بھید
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ پس اگر چاہے اللہ تعالیٰ تو مہر کردے آپ کے دل پر ، اور اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے باطل کو ، اور ثابت کرتا ہے حق کو اپنے کلمات کے ساتھ ، بیشک وہ جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کو
ربط آیات پہلے توحید ، معاد اور جزائے عمل کا ذکر ہوا ، اور نیک و بد آدمیوں کا انجام بیان کیا گیا ۔ پھر گزشتہ آیت میں رسالت کا ذکر تھا ۔ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا لا اسئلکم علیہ اجرا ًمیں اس تبلیغ حق پر تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا ، میں تو صرف قرابتداری کا لحاظ چاہتا ہوں کہ کم از کم مجھے ایذاء تو نہ پہنچائو ۔ اب آج کی پہلی آیت بھی رسالت ہی کے تسلسل میں ہے۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور جزائے عمل کا تذکرہ ہے۔ افترا علی اللہ کی نفی ارشاد ہوتا ہے امر یقولون افتری علی اللہ کذبا ً کیا یہ منکرین اور مکذبین کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے خدا تعالیٰ پر افتراء باندھا ہے ؟ یعنی قرآن پاک اللہ کا کلام نہیں ، بلکہ یہ نبوت کا دعویدار خود ساختہ کلام کو اللہ کی طرف منسوب کر رہا ہے ۔ اللہ نے ایسے لوگوں کا رد فرمایا ہے اور وحی الٰہی کی حقانیت کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ تم کہتے ہو کہ یہ خدا کا کلام نہیں ۔ یاد رکھو ! فان یشاء اللہ یختم لی قلبک اے پیغمبر ! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر کر دے ، آپ کا دل مائوف ہوجائے اور پھر اس میں وحی الٰہی یا کوئی دوسری صحیح بات داخل ہی نہ ہو سکے ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر مکمل قدرت رکھتا ہے مگر وہ ایسا نہیں کرتا ۔ لہٰذ اللہ کا پیغمبر ہمیشہ سچی بات کرتا ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ ایسے پیغمبر پر افتراء کا الزام لگانا اور اس کی طرف غلط باتیں منسوب کرنا درست نہیں ۔ ہ حق کے بغیر کچھ نہیں کہتا مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آیت زیر درس کو سورة بنی اسرائیل کی اس آیت کے تناظر میں سمجھنا چاہئے وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (بنی اسرائیل : 86) اگر ہم چاہیں تو آپ کی طرف نازل کی گئی وحی کو آپ سے ہٹا دیں ۔ اس مقام پر بھی ایسی ہی بات کی گئی ہے کہ ہم نے کمال مہربانی سے آپ پر اپنی کتاب بصورت وحی نازل کی ہے اور جس طرح یہ آپ کے قلب مبارک پر نازل کی ہے۔ اسی طرح ہم آپ کے دل کو سر بمہر بھی کرسکتے ہیں کہ اس میں کوئی چیز داخل ہی نہ ہونے پائے ، بھلا یہ لوگ آپ پر افتراء کا الزام کیسے لگاتے ہیں ؟ فرمایا حقیقت یہ ہے ویمح اللہ الباطل اللہ تعالیٰ اس وحی کے ذریعے باطل کو مٹاتا ہے ویحق الحق بکلمتہ اور اپنے کلمات کے ذریعے صحیح بات کو ثابت کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر اور وحی کے خلاف غلط پراپیگنڈہ اور شیطانی وساوس کو مٹاتا ہے اور اپنے کلمات کو بذریعہ وحی اپنے انبیاء پر نازل فرما کر حقیقت کو واضح کردیتا ہے اور اس طرح گویا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ فرمایا انہ علیہ بذات الصدور وہ سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے ، وہ ہر شخص کے فعل ، نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ شاہ عبد القادر (رح) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اوپر کیوں جھوٹ بولنے دے گا ۔ وہ چاہے تو دل کو بند کر دے کہ مضمون ہی نہ آئے جس کو باندھ سکے ، اور چاہے تو کفر کو مٹا دے ، پھر پیغام بھیجے ، خدا تعالیٰ کسی غلط بات کو بغیر نبی کے واسطے کے بھی مٹانے پر قادر ہے ، مگر وہ اپنی باتوں سے دین کی باتوں کو ثابت کرتا ہے ، اس واسطے نبی پر اپنا کلام بھیجتا ہے ، چاہے تو اللہ ہر کام کرسکتا ہے ، دل کو بند کر دے اس پر کوئی چیز نازل نہ ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کرتا ہے ۔ باطل کو مٹاتا ہے اور اس طرح اپنے کلمات یعنی نبی پر کلام نازل فرما کر حق کو ثابت کرتا ہے اور باطل کو ملیا میٹ کردیتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر شخص کے مخفی رازوں ، نیت ، ارادے اور باریک ترین باتوں کو جانتا ہے جن کو کوئی دوسرا نہیں جان سکتا ، یہ رسالت کا بیان ہوگیا ۔ توبہ اور اسکی قبولیت ارشاد ہوتا ہے وھو الذین یقبل التوبۃ عن عبادہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے ۔ ویعفوا عن السیات اور برائیوں کو معاف کرتا ہے ویعلم ما تفعلون اور جو کچھ تم کرتے ہو ۔ اس کو جانتا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ جب اس کے بندے اس کی طرف رجوع کریں تو وہ ان کی لغزشوں سے در گزر کر کے ان کی توبہ کو قبول فرما لے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے التوبۃ الندم یعنی پشیمانی کا نام توبہ ہے ، جو شخص گناہ کرنے کے بعد نادم ہوگیا اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو یہی توبہ ہے جس کی قبولیت کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تفسیر کثاف ، تفسیری مظہری اور امام بیضاوی (رح) نے بیان کیا ہے کہ حضرت علی ؓ کی خلافت کے زمانے میں ایک دیہاتی آدمی مسجد نبوی میں آیا اور جلدی جلدی استغفر اللہ استغفر اللہ کہنے لگا ۔ حضرت علی ؓ نے اس شخص کو بلا کر کہا کہ استغفار کا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے بلکہ یہ تو منافقوں کا طریقہ ہے۔ اس شخص نے عرض کیا کہ حضرت مجھے توبہ کا صحیح طریقہ بتلا دیجئے ، تو آپ نے فرمایا کہ سچی توبہ کے لیے چھ شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے جو یہ ہیں ۔ (1) سابقہ گناہوں پر نادم ہو۔ (2 ) دوران گناہ جو فرائض ترک کیے ہیں ان کو لوٹا یا جائے۔ (3) کسی دوسرے کے ساتھ ظلم و زیادتی کی ہے تو اس کی تلافی کرے۔ (4) جس طرح گناہ کے زمانے میں اپنے نفس کو گناہ پر آمادہ کرتا ہے ، اب تو بہ کے بعد نفس کو اسی طریقے سے اللہ کی اطاعت کے لیے ہموار کرے۔ (5) جس طرح گناہ کے ارتکاب سے گناہ کی لذت اٹھاتا تھا ، اب اطاعت کر کے اس کی لذت بھی حاصل کرے۔ (6) گناہ کے زمانے میں ہنستا تھا اب اسی قدر رونے کی کوشش کرے۔ غرضیکہ زبان سے توبہ توبہ کرنا اور گناہ پر اصرا ر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا بلکہ توبہ کی قبولیت کے لیے اس کے لوازمات کی تکمیل بھی ضروری ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ، گناہوں سے در گزر کرتا ہے۔ ویستجیب الذین امنوا وعملوالصلحت اور ان لوگوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیے ۔ دعا بہترین عبادت ہے ، اللہ کا فرمات ہے ۔ اجیب دعوۃ الداع اذا دعان ( البقرہ : 186) جب کوئی دعا کرنے والا دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں بشرطیکہ دعا کرنے والا ایماندار ہو ۔ اللہ کے نبی نے دعا کی قبولیت کی تین صورتیں بیان فرمائی ہیں ۔ جب کوئی بندہ اللہ سے کوئی سوال کرتا ہے تو یا تو اس کا سوال پورا کردیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کی دعا کی وجہ سے دعا کرنے والے کی کوئی مصیبت ٹال دی جاتی ہے اور یا پھر اس کی دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ بنا کر رکھ لیا جاتا ہے ، لہٰذا ہر انسان کو ہر وقت دعا کرتے رہنا چاہئے۔ فرمایا وہ سنتا ہے دعا ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیئے ویزید ھم من فضلہ اور انہیں اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرتا ہے ، وہ اپنے بندے میں جس قدر خلوص پاتا ہے اسی قدر اپنی رحمت میں اضافہ کردیتا ہے وہ اپنی مصلحت اور حکمت کے مطابق جتنا چاہے عطا کردیتا ہے۔ اس کی کوئی تحدید نہیں ہے والکفرون لھم عذاب شدید اس کے بر خلاف کافروں کے لیے اللہ کے ہاں سخت عذاب بھی تیار ہے ۔ جو شخص اس کی توحید کو قبول نہیں کرتا ، اس کے بتائے ہوئے پروگرام پر عمل نہیں کرتا ، وہ اس کے شدید عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ رزق کی کشادگی اور تنگی تاریخ عالم شاہد ہے کہ انبیاء کی نبوت کو تسلیم کرنے کے راستے میں ایک رکاوٹ ان کی کمزور مالی حیثیت بھی رہی ہے ۔ دنیا کے اکثر و بیشتر متموں اور آسودہ حال لوگوں نے ہی رسالت کا انکار کیا ۔ ان کا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ نبی کو ایک امیر کبیر آدمی ہونا چاہئے جس کے پاس محلات ہوں ، باغات ہوں ، نوکر چاکر اور آرام و راحت کے تما م اسباب مہیا ہوں ، بھلا ایک نادار آدمی کو کیسے نبی تسلیم کرلیا جائے ۔ خود حضور ﷺ کی رسالت پر بھی یہی اعتراض تھا لَوْ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (الزخرف : 31) یہ قرآن مکہ اور طائف کی دو بڑی بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا ، کیا اس کے لیے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا ؟ اگلی آیت میں اللہ نے اسی اعتراض کا جواب دیا ہے کہ منصب نبوت کے لیے امارت و غربت معیار نہیں ہے ۔ دنیا میں رزق کی کشادگی یا تنگی تو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے تعلق رکھتی ہے ، وہ جس کو چاہتا ہے زیادہ دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کہ دیتا ہے اور پھر آسودہ حال ہونا اللہ کے ہاں پسندیدگی کا کوئی معیار تو نہیں ، وہ بعض اوقات نافرمانوں کو بےحساب نعمتیں عطا کرتا ہے ، دولت کی فروانی ہوتی ہے ، دنیا کی زندگی کے لیے اسباب راحت موجود ہوتے ہیں مگر بالآخر وہ جہنم کے کنندہ ناتراش ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بعض صالحین کو دنیا کی زندگی میں تنگی میں ڈال دیتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کے ہاں مبغوض ہوتے ہیں ۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق (النمل : 71) کہ اس نے روزی کے معاملہ میں بعض کو بعض پر برتری عطا فرمائی ہے۔ تو یہاں پر ارشاد ہوتا ہے ولو بسط اللہ الرزق بعبادہ لبغوا فی الارض اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے روزی کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سر کشی کرنے لگیں ، نہ خدا تعالیٰ کو پہچانیں اور نہ اس کی اطاعت کریں ۔ عالم ارواح والی حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کے سامنے ان کی اولاد کی تمام روحیں پیش کی گئیں ت انہوں نے ان کے درمیان اونچ نیچ دیکھ کر بارگاہ رب العزت میں عرض کیا رب لولا سویت بین عبادک ۔ پروردگار ! تو نے اپنے بندوں کے درمیان مساوات کیوں نہیں قائم کی ، تو اللہ نے فرمایا کہ اگر میں سب کو برابر کر دوں تو مجھے کوئی نہیں پہچانے گا ۔ اللہ نے بندوں کے درمیان اپنی حکمت کے مطابق رزق میں کمی بیشی کی ہے۔ دو اس دنیا میں کسی کو زیادہ دیتا ہے اور کسی کو کم ، اگر سب کو یکساں کر دے تو لوگ سر کشی کرنے لگ جائیں ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کس کو کس حال میں رکھنا ہے ، کس کے ساتھ کون سی چیز زیادہ مناسب ہے اور کس صورت میں اس کا امتحان لینا ہے۔ معاشی یکسانیت غیرفطری ہے اس زمانے میں اشتراکیت کے دعویدار معاشی مساوات کا بڑا پراپیگنڈا کرتے ہیں حالانکہ یہ ایک غیر فطری چیز ہے ، اشتراکیت کی قانون سازی کری سے پہلے مزدک نے کی تھی۔ وہ لوگوں کے …ہر چیز کے مساوات کا فاش شناسی کرائیں کے نظریہ کے مطابق عورت بھی ایک منفرد چیز ہونی چاہئے۔ جو کسی ایک کی ملکیت … روس کی موجود اشتراکیوں نے تو بعض چیزوں مثلاً بیوی ، مکان ، سواری وغیرہ کو فرا…میں شمار کیا ہے تا ہم معیشت کے تمام وسائل کے مشترک ہونے کے یہ بھی وسائل ہیں کہ تمام وسائل پر حکومت کا کنٹرول ہونا چاہئے ، چناچہ یہ لوگ اس اشتراکی نظا م کے گزشتہ ساٹھ ستر سال سے تجربات کر رہے ہیں مگر اونٹ کس کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا ۔ یہاں پر تشدد کے سوا کچھ نہیں ، لوگوں کو اشتراکی نظریات پر مجبور کیا جاتا ہے جب کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ، ہمارے بزرگوں نے تو اشتراکی نظریہ کی ابتداء میں ہی کہہ دیا تھا کہ اس نظام کا تجربہ کر کے بھی دیکھ لو ، تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ خلاف فطرت ہے اور ناکام ہے آج ستر سال کے بعد اشتراکی نظام ناکام ہوچکا ہے حتیٰ کہ اس کا پرورش کرنے والا ملک روس خود ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ختم ہوگیا ہے۔ اس طرح ہمارے بزرگوں کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے ذہنی اور جسمانی قویٰ بھی یکساں نہیں رکھے ایک نہایت زیرک اور عقلمند آدمی ہے تو دوسرا سرسری ذہن کا مالک ہے کوئی جسمانی لحاظ سے بڑا مضبوط ہے جب کہ دوسرا کمزور جسم والا ہے ۔ پھر انہی ظاہری اور باطنی قویٰ کی نسبت سے ان کے اشغال کا مختلف ہونا بھی لازمی امر ہے ۔ کوئی ایک کام کو بخوبی انجام دے سکتا ہے تو دوسرا دوسرے کام کا زیادہ اہل ہے ، لہٰذا ہر اہل اور نااہل ، کمزور اور صحت مند ، ہنر مند اور غیر ہنر مند جاہل اور عالم میں مساوات کیسے قائم ہو سکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے عدم مساوات خود قائم کی ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ اگر وہ سب کے لیے روزی کے دروازے یکساں کشادہ کردیتا ہے تو لوگ دنیا میں سر کشی کرنے لگتے اور سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ۔ سرمایہ دارانہ نظام معیشت اشتراکی نظام معیشت کے بر خلاف مغربی ممالک ، امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ میں سرمایہ دارانہ نظام رائج ہے ۔ اس نظام میں دولت کے کمانے اور خرچ کرنے پر کوئی پابندی نہیں ، ہر شخص ہر جائز یا ناجائز ذرائع سے جتنی چاہے دولت اکٹھی کرسکتا ہے۔ یہ ملوکیت اور شہنشاہٹ کا نظام ہے اور قرآن کی رو سے یہ بھی باطل ہے ۔ اس نظام کا ماحصل یہ ہے کہ دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہو کر باقی لوگ بنیادی حقوق سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ۔ امیر آدمی امیر برادر غریب بیچارہ غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ بعض لوگ بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہتے ہیں جہاں انہیں آرام و آسائش کی ہر سہولت میسر آتی ہے جب کہ بعض لوگوں کو سر چھپانے کیلئے چھونپڑی بھی نصیب نہیں ہوتا ، یہی اس نظام کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ اسلامی نظام معیشت بر خلاف اس کے اسلام نے ایک صاف ستھرا نظام معیشت دیا ہے ، جو مذکورہ دونوں نظاموں سے مختلف ہے ۔ اسلام ہر جائز اور ناجائز ذرائع سیاکتساب زر کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کلو مما فی الارض حللا طیبا ( البقرہ : 168) لوگو ! زمین کی حلال اور طیب چیزیں کھائو یعنی حرام کے قریب نہ جائو ، مگر آج دنیا میں اس پابندی کو کون قبول کرتا ہے ؟ دولت حاصل ہونی چاہئے خواہ شراب فروشی ، سمگلنگ ، چوربازاری ، جوا یا فلم انڈسٹری کے ذریعے حاصل ہو ۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کے مصرف پر بھی کوئی پابندی نہیں ، کوئی بیس لاکھ کی کوٹھی بنائے اور چالیس لاکھ کا سامان تعیش جمع کرلے کھیل تماشے اور عیاشی اور فحاشی پر دولت خرچ کرے۔ کوئی نہیں پوچھتا ، مگر اسلام اس افراط تفریط کی اجازت نہیں دیتا ۔ اسلام کے نظام معیشت کی رو سے یہ نیک و بد انسان کو اس کے کم از کم بنیادی حقوق تو ضرور ملنے چاہئیں ۔ اسے کھانا ، پینا ، لباس ، رہائش اور تعلیم کی بنیادی سہولتیں بہر حال ہونی چاہئیں ۔ خواہ کم تر درجہ کی ہوں مگر ہر معاملے میں سب برابر ہوں ۔ یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ایک غیر فطری امر ہے کوئی دال کھائے ، گوشت کھائے یا سبزی کھائے ، بہر حال اسے کھانا میسر آنا چاہئے۔ اسی طرح خواہ معمولی چھپر ہو رہائش کی سہولت ملنی چاہئے۔ بیماری کی حالت میں علاج معالجہ کی سہولت ہوتا کہ انسان کام کاج اور اللہ کی عبادت کرسکے اسی طرح ہر شخص کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں ۔ اسلام یہ حقوق دیتا ہے مگر برابری کو تسلیم نہیں کرتا ۔ فرمایا اگر اللہ تعالیٰ سب کے لیے رزق تو کشادہ کردیتا ہے تو لوگ زمین میں سر کشی کرنے لگتے ۔ ولکن یتنزل بقدر مای یشاء بلکہ وہ ایک خاص اندازے کے مطابق رزق کو نازل کرتا ہے اور جس شخص کے لیے جتنا مناسب سمجھتا ہے ، عطا کرتا ہے ، انہ بعباد خبیر بصیر بیشک بیشک وہ اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح واقف ہے اور یہ چیز اس کی نگاہ میں ہے۔ وہ اپنے علم اور حکمت کی بناء پر رزق کی تقسیم کرتا ہے اور یہ تقسیم خود بندوں کے لیے بھی ان کے بہترین مفاد میں ہوتی ہے۔ دلائل قیامت اور قدرت اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور جزائے عمل کا مسئلہ سمجھایا ہے اور ساتھ ساتھ وحی الٰہی کا فلسفہ بھی آ گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھو الذین ینزل الغیب من بعد ما نسوا اللہ کی ذات وہ ہے جو بارش کو نازل کرتا ہے جب و وہ لوگ مایوس ہوجاتے ہیں ۔ ینشر رحمتہ اور اپنی رحمت کو پھیلا دیتا ہے۔ بارش ہوتی ہے تو ہر وہ زمین میں نئی زندگی پیدا ہوتی ہے ، اس میں نشونما کی قوت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس میں پھل ، پھول اور اناج پیدا ہوتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو بکھیر دیتا ہے اور انسان ، جانور ، پرندے حتیٰ کہ کیڑے مکوڑے بھی اللہ کی اس رحمت سے مستفید ہوتے ہیں اور خوراک اور پانی جیسی نعمتیں حاصل کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ زندگی کو برقرار رکھ سکتے ہیں ۔ فرمایا وھو الولی الحمید اللہ تعالیٰ ہی ہر امت کا کار ساز اور تعریفوں والا ہے ۔ کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے وہ بہر حال تعریفوں کے لائق ہے ہر شخص کا کام بنانے والا بھی وہی ہے۔ انسان لاکھ ٹکریں مارے اس کی منشاء کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا یہ گویا وحی الٰہی کی دلیل ہوگئی۔ فرمایا ومن ایتہ خلق السموات والارض آسمانوں اور زمین کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا یہ عظیم نظام قائم کر رکھا ہے ۔ جس کے سامنے ہر مخلوق عاجز ہے۔ وما بث فیھما من دابۃ اور آسمانوں اور زمین کے درمیان جاندروں کو بکھیر دینا بھی اس کی قدرت کی نشانی ہے بھلا اس کے بغیر کون ہے جو اس کی مخلوق کی اقسام کا ہی احاطہ کرسکے۔ آسمانوں پر دیگر جاندار تو نہیں ہیں ۔ البتہ اللہ کی لطیف مخلوق ملائکہ ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری مخلوق بھی ہو سکتی ہے۔ جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، زمین کی مخلوق سے تو ہم کس قدرواقف ہیں جن میں بلند ترین ہستی خود انسان ہیں ۔ باقی چرند ، پرند ، درندنے ، کیڑے ، مکوڑے اور اس سے کئی گنا زیادہ آبی مخلوق ہے ۔ غرضیکہ بری ، بحری اور فضائی دس لاکھ سے بھی زیادہ قسم کی مخلوق اللہ نے پیدا کر رکھی ہے۔ یہ سب اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں ، اگر انسان صرف اسی چیز میں غور کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا ہے اور پھر پھیلا دیا ہے ۔ وھو علی جمعھم اذا یشاء قدیر اسی طرح وہ جب چاہے گا ۔ ان سب کو اکٹھا کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس کا فیصلہ ہے کہ قیامت برپا ہوگی ، ہر چیز فنا ہو جائیگی اور پھر وہ محاسبہ اعمال اور جزاء و سزا کے لیے سب کو دوبارہ زندہ کر کے اپنے سامنے لا کھڑا کرے گا ۔ سورة البقرہ میں بھی ارشاد خداوندی ہے این ما تکونوا یات بکم اللہ جمعیا ً (آیت : 148) تم جہاں کہیں بھی ہو گے ، وہ تمہیں جمع کرلے گا ۔ کوئی شخص قبر میں دفن ہو یا اس کے جسم کے ذرات ہوا اور پانی میں منتشر ہوچکے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ سب کو جمع کر کے پھر اس کو اصلی شکل میں پیدا کر دے۔ اس نے اس کام کے لیے ایک وقت مقرر کررکھا ہے جب وہ وقت آجائے گا ۔ تو اللہ تعالیٰ سب کو اکٹھا کرلے گا ، یہ وقوع قیامت اور جزائے عمل کی دلیل بھی ہوگی ۔
Top