Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 197
حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ
حَتّيٰٓ اِذَآ : یہاں تک کہ جب اَخَذْنَا : ہم نے پکڑا مُتْرَفِيْهِمْ : ان کے خوشحال لوگ بِالْعَذَابِ : عذاب میں اِذَا هُمْ : اس وقت وہ يَجْئَرُوْنَ : فریاد کرنے لگے
اور یہ لوگ ایسے ہی غفلت و مدہوشی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم عذاب میں پکڑیں گے ان کے خوشحال اور عیش پرست لوگوں کو تو ان کا سب نشہ ہرن ہوجائے گا اور یہ چلانے لگیں گے،
81 منکرین و مستکبرین پر اللہ کا عذاب اور اس کی مختلف شکلیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے منکر اور مستکبر ایسے ہی غفلت اور مدہوشی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ اچانک آپکڑے گا ان کو ہمارا عذاب۔ اگرچہ بعض حضرات نے اس سے مابعد الموت کا عذاب مراد لیا ہے لیکن اکثر حضرات اہل علم اور جمہور مفسرین کرام کے نزدیک اس سے مراد دنیا ہی کا کوئی عذاب ہے۔ جیسے عذاب بدر وغیرہ۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، مدارک، خازن، صفوۃ البیان، اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ اور ایسے عذاب اس دنیا میں طرح طرح کی صورتوں اور شکلوں میں آتے رہتے ہیں تاکہ منکر اور باغی لوگ اپنے کئے کا بھگتان بھگتیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جس نے سنبھلنا ہو وہ سنبھل جائے۔ سو کبھی یہ عذاب کسی طوفان اور زلزلے کی شکل میں آتا ہے۔ کبھی کسی آگ اور حادثے کی صورت میں اور کبھی کسی جنگ اور دوسری تباہی کی شکل میں اور کبھی کسی قحط سالی اور بھوک مری کی صورت میں وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ ۔ جیسا کہ ہمارے اس دور میں بھی اس کی طرح طرح کی مثالیں ہمارے سامنے وجود میں آتی رہتی ہیں اور وہ اپنی زبان حال سے پکار پکار کر لوگوں کو عبرت پذیری کی دعوت دیتی رہتی ہیں ۔ چناچہ اس کی ایک تازہ مثال جو ابھی چند ہی سال قبل ہمارے سامنے رونما ہوئی دنیا کی اپنے دور کی سب سے بڑی شیطانی سپر پاور روس جو کہ افغانستان میں ان نہتے مجاہدوں سے ٹکرا کے اب پاش پاش ہوگئی ہے جو کہ ظاہری اسباب و وسائل کے لحاظ سے خالی لیکن قوت ایمانی سے لیس اور سرشار تھے۔ یہاں تک کہ سابقہ سوویت یونین کا وجود ہی صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ پھر بچے کھچے روس میں قحط سالی اور بھوک مری سے یہ حالت ہوگئی کہ وہ دنیا ساری سے بھیک مانگنے پر مجبور ہوگیا اور دنیا کے دوسرے کئی ملکوں کی طرح پاکستان جیسے محدود وسائل کے ترقی پذیر ملک کی طرف سے بھی اس کو اسی ہفتے دس ہزار ٹن چاول کی بھیک دی گئی۔ اور جیسا کہ روس ہی میں کچھ سال قبل چرنوبل کے ایٹمی پلانٹ سے رسنے والی گیس سے ایک ہولناک تباہی پھیلی۔ جس سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور ہزاروں اپاہج، معذور اور ہمیشہ کے لیے بیکار ہو گیے۔ اور جیسا کہ ایڈز کی بیماری کی صورت میں اس کی ایک اور مثال موجود ہے جس سے آج ساری دنیا خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔ سو ایسے ایسے عذاب قدرت کی طرف سے آتے رہتے ہیں تاکہ باغیوں اور سرکشوں کو اپنے کئے کا کچھ پھل ملے اور دوسروں کو عبرت ہو۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَاب الاَدْنٰی دُوْنَ العَذَاب الاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ } ۔ (السجدۃ۔ 21) لیکن غافل دنیا پھر بھی عبرت نہیں پکڑتی ۔ الا ماشاء اللہ ۔ جبکہ منکروں کے لیے اصل عذاب تو آخرت میں ہوگا جو کہ بڑا ہی ہولناک اور انتہائی سخت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Top