Tafseer-e-Madani - Aal-i-Imraan : 9
رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠   ۧ
رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اِنَّكَ : بیشک تو جَامِعُ : جمع کرنیوالا النَّاسِ : لوگوں لِيَوْمٍ : اس دن لَّا رَيْبَ : نہیں شک فِيْهِ : اس میں اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ لَا يُخْلِفُ : نہیں خلاف کرتا الْمِيْعَادَ : وعدہ
اے ہمارے رب بیشک تو جمع کرنے والا ہے سب لوگوں کو ایک ایسے (ہولناک اور) عظیم الشان دن میں، جس میں کوئی شک نہیں، بیشک اللہ خلاف نہیں فرماتا اپنے وعدہ کے،
17 اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا : لہذا اس عظیم الشان اور ہولناک دن نے بہرحال واقع ہونا ہے، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ وبدلہ ملے۔ پس تو اے ہمارے خالق ومالک، ہمیں اپنے کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے اس دن کی ہولناکیوں اور ناکامیوں سے محفوظ رکھنا، اور اس کی رسوائی سے بچانا، کہ تیرے کرم اور تیری عنایت کے سوا ہمارے پاس کوئی سہارا نہیں۔ محض تیرا ہی آسرا اور سہارا ہے۔ تَبَارَکْتَ و تَعالَیْتَ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے " راسخین فی العلم " کی اس دعا کو ذکر فرمایا گیا ہے، جو وہ اپنے رب کے حضور اپنے ایمان و یقین کی دولت کی حفاظت کے لئے کرتے ہیں۔ سو اس کے حضور عرض کرتے ہیں کہ راہ حق میں ان کے جمے ہوئے قدم کبھی اور کہیں اکھڑنے اور راہ حق سے ہٹنے اور پھرنے نہ پائیں۔ اور فتنوں کے مقابلے میں وہ خدائے وہّاب ہمیشہ اپنی ایسی روحانی کمک سے ان کو نواز دے جو ان کو راہ حق پر ثابت قدم رکھے۔ بہرکیف یہ " راسخین فی العلم " کی دعا ہے جو وہ اپنے رب کے حضور کرتے ہیں تاکہ وہ راہ حق پر ثابت قدم رہیں اور ان کے جمے ہوئے قدم کبھی اکھڑنے نہ پائیں۔ سو وہ رجوع الی اللہ کی دولت سے بھی پوری طرح سرشار ہوتے ہیں جو ان کا اصل سہارا ہوتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Top