Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں اور جو مال ہم نے انکو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
انصارِ مدینہ کی طاعت شعاری : 38: وَالَّذِیْنَ اسْتَجَا بُوْا لِرَبِّھِمْ (اور جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا) یہ آیت انصار مدینہ کے متعلق نازل ہوئی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی طرف بلایا اور طاعت کی دعوت دی تو انہوں نے اس کو قبول کرلیا۔ ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کا حکم مان لیا۔ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ (اور وہ نماز کے پابند ہیں) وہ پانچوں نمازیں ادا کرنے والے ہیں۔ وَاَمْرُھُمْ شُورٰی بَیْنَہُمْ (اورا نکا ہر کام آپس کے مشورہ سے ہوتا ہے) ای ذو شوری۔ وہ کسی رائے میں انفرادیت اختیار نہیں کرتے جب تک اس پر اتفاق نہ کرلیں۔ قولِ حسن (رح) : جس قوم نے مشورہ سے کام لیا وہ سب سے بہتر کام کی طرف ہدایت پا گئے۔ الشوریؔ یہ الفتیا کی طرح مصدر ہے جو کہ التشاور کے معنی میں ہے۔ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں) وہ صدقہ کرتے ہیں۔
Top