Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور یہ کسی بشر کا مرتبہ نہیں کہ اللہ اسی سے کلام کرے مگر ہاں یا تو وحی سے یا کسی آڑ سے، یا کسی (فرشتہ) قاصد کو بھیج دے، سو وہ وحی پہنچا دے اللہ کے حکم سے، جو اللہ کو منظور ہوتا ہے،57۔ بیشک وہ عالیشان ہے، حکمت والا ہے،58۔
57۔ یہاں یہ مسئلہ بیان فرمایا گیا ہے کہ عام فطری قوائے بشری اس قابل ہی نہیں کہ حق تعالیٰ سے براہ راست عزت ہم کلامی حاصل کرسکیں۔ مخاطبت کے ممکن طریقے صرف تین ہیں :۔ (1) بطریق وحی، یعنی بلاواسطہ مدرکات طبعی قلب میں کوئی بات ڈال دی جائے۔ (2) بواسطہ حجاب کچھ کلام کیا جائے۔ حجاب کا تعلق تجلی حق سے نہیں ضعف ادراک سے ہے۔ حجاب، حجاب عظمت ہے جو مشاہدۂ تجلیات سے بشر کو روک دیتا ہے ذات حق محجوب نہیں۔” اور یہ حجاب کوئی جسم حائل نہیں۔ اور نہ یہ حجاب حق تعالیٰ کے نور وذات کو مخفی کرسکتا ہے۔ بلکہ حقیقت اس حجاب کی بشر کا ضعف ادراک ہے۔ جس سے باوجود کمال ظہور نور ذات کے یہ ادراک سے قاصر ہے۔ “ (تھانوی (رح) ولیس المراد بہ حجاب اللہ تعالیٰ لان اللہ تعالیٰ لایجوز علیہ مایجوز علی الاجسام من الحجاب ولکن المراد بہ ان السامع محجوب عن الرؤیۃ فی الدنیا (مدارک) (3) تیسرا طریقہ یہ ہے کہ فرشتہ کے ذریعہ سے وحی بشر کو بھیج دی جاتی ہے۔ اس وحی کے مخاطب حضرات انبیاء تو قطعی ہوتے ہیں اور غیر انبیاء کے لئے بھی اس کی گنجائش ہے جیسا کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کے معاملہ میں قرآن مجید ہی سے ثابت ہے۔ اور یہ منکرین ومشرکین جو خود مخاطبہ الہی کی تمنا میں ہیں ان کا ظرف ان میں سے کسی طریق کے بھی قابل نہیں۔ 58۔ (آیت) ” علی “۔ وہ بلند شان ہے۔ اور اس کی علوشان کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ کو اس سے ہمکلامی کی مجال ہی نہ ہو (آیت) ” حکیم “۔ لیکن وہ حکیم مطلق بھی ہے، اس لیے اس نے بندوں کے مصالح پر نظر کرکے اپنی ہم کلامی کے تین طریقے نکال دیئے۔
Top