Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 28
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يُنَزِّلُ : جو اتارتا ہے الْغَيْثَ : بارش کو مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ قَنَطُوْا : وہ مایوس ہوگئے وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ : اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو وَهُوَ : اور وہ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ : کارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے
مایوسی کے بعد بارش : 28: وَھُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ (اور وہ ایسا ہے جو بارش نازل کرتا ہے) ۔ قراءت : یُنَزّلکو مدنی، شامی و عاصم نے پڑھا۔ مِنْم بَعْدِ مَاقَنَطُوْا (اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوجاتے ہیں) قراءت : قَنِطُوا پڑھا گیا ہے۔ وَیَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ (وہ اپنی رحمت پھیلاتا ہے) رحمت سے مراد بارش کی برکات اور منافع اور اس سے جو سرسبزی حاصل ہوتی ہے۔ مقولہ فاروقی ؓ : عمرفاروق ؓ سے کہا گیا۔ قحط زیادہ ہوگیا ہے اور لوگ مایوس ہوگئے تو آپ نے فرمایا اب بارش ملے گی انہوں نے اس آیت کی طرف اشارہ کیا یا انہوں نے ہر شئی میں اللہ تعالیٰ کی جو رحمت ہے اس کا ارادہ کیا۔ وَھُوَ الْوَلِیُّ (اور وہ کارساز ہے) جو کہ اپنے بندوں کا احسانات کے ساتھ ذ مہ دار ہے۔ الْحَمِیدُ (وہ قابل تعریف ہے) اس پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اہل طاعت اس کی تعریف کرتے ہیں۔
Top