Tafseer-e-Baghwi - Hud : 58
اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ
اِنَّ : بیشک قَارُوْنَ : قارون كَانَ : تھا مِنْ : سے قَوْمِ مُوْسٰي : موسیٰ کی قوم فَبَغٰى : سو اس نے زیادتی کی عَلَيْهِمْ : ان پر وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے دئیے تھے اس کو مِنَ الْكُنُوْزِ : خزانے مَآ اِنَّ : اتنے کہ مَفَاتِحَهٗ : اس کی کنجیاں لَتَنُوْٓاُ : بھاری ہوتیں بِالْعُصْبَةِ : ایک جماعت پر اُولِي الْقُوَّةِ : زور آور اِذْ قَالَ : جب کہا لَهٗ : اس کو قَوْمُهٗ : اس کی قوم لَا تَفْرَحْ : نہ خوش ہو (نہ اترا) اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ لَا يُحِبُّ : پسند نہیں کرتا الْفَرِحِيْنَ : خوش ہونے (اترانے) والے
بلاشبہ قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا سو وہ ان کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا اور ہم نے اسے خزانوں میں سے اس قدر دیا تھا کہ اس کی چابیاں ایسی جماعت کو گراں بار کردیتی تھیں جو قوت والے لوگ تھے جبکہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ تو مت اترا، بلاشبہ اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا
قارون کا اپنے مال پر اترنا، دنیا داروں کا اس کا مال دیکھ کر ریجھنا، اور قارون کا اپنے گھر کے ساتھ زمین میں دھنس جانا ان آیات میں قارون کا اور اس کی مالداری کا اور بغاوت اور سر کشی کا اور زمین میں دھنسائے جائے کا ذکر ہے یہ تو قرآن مجید میں ذکر ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا کا لڑکا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کا چچا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی خالہ کا لڑکا تھا یہ سب اسرائیلی روایات ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اسے اتنا زیادہ مال دیا تھا کہ اس کے خزانوں کا اٹھانا تو بہت دور کی بات ہے اس کے خزانوں کی کنجیاں اتنی زیادہ تھیں کہ قوت والی ایک جماعت کو ان چابیوں کے اٹھانے میں بوجھ محسوس ہوتا تھا۔ جب مال زیادہ ہوتا ہے تو انسان کو تکبر ہوجاتا ہے اور مال کے غرور میں پھولا نہیں سماتا۔ قارون نے اپنے مال کی وجہ سے بنی اسرائیل پر بغاوت کی یعنی فخر کیا اور ان کو حقیر جانا اپنے مال پر اترانے لگا۔ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ دیکھ تو اترا مت، بلاشبہ اللہ تعالیٰ اترانے والے کو پسند نہیں کرتا، اور تجھے جو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے تو اس کے ذریعہ دار آخرت کا طالب بن جا، یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا رہ، تاکہ یہ مال موت کے بعد تیرے کام آئے کیونکہ سب مال یہیں اسی دنیا میں دھرا رہ جائے گا ہاں جس نے آگے بھیج دیا اس کا آگے بھیجا ہوا مال کام دے گا۔ جو مال آخرت کے لیے نہ بھیجا، وہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو مل جائے گا۔ پھر ایسی بیوقوفی کیوں کرے کہ دوسرے لوگ اپنے چھوڑے ہوئے مال سے گل چھڑے اڑائیں اور آخرت میں خود خالی ہاتھ حاضر ہوجائے اور بخیل بن کر اللہ تعالیٰ کے قوانین کے مطابق مال کو خرچ نہ کرے اپنے ہی مال کو اپنے لیے و بال اور باعث عذاب بنا لے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بندہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کا مال صرف وہ ہے جو تین کاموں میں لگ گیا جو کھایا اور فنا کیا اور جو پہنا اور پرانا کردیا اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دے دیا سو اس نے اپنے لیے ذخیرہ بنا لیا اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر چلا جائے گا (یعنی مرجائے گا) (رواہ المسلم ص 407: ج 2) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (حاضرین سے) سوال فرمایا کہ تم میں ایسا کون ہے جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبت ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کوئی بھی نہیں جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبت ہو ! آپ نے فرمایا کہ اب تم سمجھ لو کہ اپنا مال وہ ہے جو آگے بھیج دیا (یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کردیا تاکہ آخرت میں ثواب ملے اور وارث کا مال وہ ہے جو اپنے پیچھے چھوڑ کر چلا گیا۔ یعنی موت آنے پر خود اسی کا مال اس کے وارثوں کا ہوجائے گا) اب ہر شخص سوچ لے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے مال خرچ کرنے میں کنجوسی کرنا اور اس مال کو وارثوں کے لیے چھوڑ جانا یہ اپنے مال سے محبت نہ ہوئی بلکہ وارث کے مال سے محبت ہوئی۔ انسان کا یہ عجیب مزاج ہے کہ جتنا زیادہ مال ہوجائے اسی قدر کنجوس ہوتا چلا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے خرچ نہیں کرتا۔ ایک فیکٹری کے بعد دوسری فیکٹری کروڑوں میں خریدے گا اور اگر کوئی سائل آجائے تو سو پچاس ہاتھ پر رکھ دے گا اگر مسجد و مدرسہ میں خرچ کرنے کے لیے کہا جائے تو سو پچاس روپے سے زیادہ کی ہمت نہ کرے گا۔ مالدار اکثر دنیا دار ہوتے ہیں آگے بھی دنیا پیچھے بھی دنیا، سوتے بھی دنیا جاگتے بھی دنیا اگر نماز پڑھنے لگے تو اس میں بھی دکان کا حساب لگانے کا دھیان، امپورٹ اور ایکسپورٹ کے بارے میں غور و فکر۔
Top