Tafheem-ul-Quran - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
78 کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے رُوبرُو بات کرے۔ اُس کی بات یا تو وحی (اشارے)کے طور پر ہوتی ہے 79 ، یا پردے کے پیچھے سے 80 ، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ)بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، 81 وہ برتر اور حکیم ہے۔ 82
سورة الشُّوْرٰی 78 تقریر ختم کرتے ہوئے اسی مضمون کو پھر لیا گیا ہے جو آغاز کلام میں ارشاد ہوا تھا۔ بات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اس سورة کی پہلے آیت اور اس کے حاشیے پر دوبارہ ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ سورة الشُّوْرٰی 79 یہاں وحی سے مراد ہے القاء، الہام، دل میں کوئی بات ڈال دینا، یا خواب میں کچھ دکھا دینا، جیسے حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف (علیہم السلام) کو دکھایا گیا (یوسف، آیات 4۔ 100۔ الصافات 102)۔ سورة الشُّوْرٰی 80 مراد یہ ہے کہ بندہ ایک آواز سنے، مگر بولنے والا اسے نظر نہ آئے، جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ہوا کہ طور کے دامن میں ایک درخت سے یکایک انہیں آواز آنی شروع ہوئی مگر بولنے والا ان کی نگاہ سے اوجھل تھا (طٰہٰ ، آیات 11 تا 48۔ النمل، آیات 8 تا 12۔ القصص، آیات 30 تا 35) سورة الشُّوْرٰی 81 یہ وحی آنے کی وہ صورت ہے جس کے ذریعہ سے تمام کتب آسمانی انبیاء (علیہم السلام) تک پہنچی ہیں۔ بعض لوگوں نے اس فقرے کی غلط تاویل کر کے اس کو یہ معنی پہنائے ہیں کہ " اللہ کوئی رسول بھیجتا ہے جو اس کے حکم سے عام لوگوں تک اس کا پیغام پہنچاتا ہے "۔ لیکن قرآن کے الفاظ فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہ مَا یَشَآءُ (پھر وہ وحی کرتا ہے اس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے) ان کی اس تاویل کا غلط ہونا بالکل عیاں کردیتے ہیں۔ عام انسانوں کے سامنے انبیاء کی تبلیغ کو " وحی کرنے " سے نہ قرآن میں کہیں تعبیر کیا گیا ہے اور نہ عربی زبان میں انسان کی انسان سے علانیہ گفتگو کو " وحی " کے لفظ سے تعبیر کرنے کی کوئی گنجائش ہے۔ لغت میں وحی کے معنی ہی خفیہ اور سریع اشارے کے ہیں۔ انبیاء کی تبلیغ پر اس لفظ کا اطلاق صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو عربی زبان سے بالکل نابلد ہو۔ سورة الشُّوْرٰی 82 یعنی وہ اس سے بہت بالا و بر تر ہے کہ کسی بشر سے رو در رو کلام کرے، اور اس کی حکمت اس سے عاجز نہیں ہے کہ اپنے کسی بندے تک اپنی ہدایات پہنچانے کے لیے رو برو بات چیت کرنے کے سوا کوئی اور تدبیر نکال لے۔
Top