Tafseer-al-Kitaab - Al-Muminoon : 71
وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ
وَلَوِ : اور اگر اتَّبَعَ : پیروی کرتا الْحَقُّ : حق (اللہ) اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات لَفَسَدَتِ : البتہ درہم برہم ہوجاتا السَّمٰوٰتُ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضُ : اور زمین وَمَنْ : اور جو فِيْهِنَّ : ان کے درمیان بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِذِكْرِهِمْ : ان کی نصیحت فَهُمْ : پھر وہ عَنْ ذِكْرِهِمْ : اپنی نصیحت سے مُّعْرِضُوْنَ : روگردانی کرنے والے ہیں
اور اگر (ایسا ہوتا کہ) حق ان کی خواہشوں کا تابع ہوجاتا تو یقینا آسمانوں اور زمین اور وہ سب جو کچھ ان میں ہے (ان سب کا انتظام کبھی کا) درہم برہم ہوگیا ہوتا۔ نہیں، بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہم نے ان کو ان ہی کے حالات لا کر سنائے ہیں۔ اب یہ اپنے ہی ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں۔
[33] قاعدے کی بات ہے کہ آدمی اپنا عیب سن کر خوش نہیں ہوتا اور حق بات اکثر لوگوں کو تلخ لگتی ہے۔ چناچہ جب نبی ﷺ نے کفار مکہ کو ان کے عیوب ان پر ظاہر کر کے ان کی اصلاح کی کوشش کی تو جو لوگ بہت خودپسند اور مغرور تھے ان کو الٹی ضد پیدا ہوئی۔ اس آیت میں یہی الزام دیا گیا ہے۔
Top