Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 71
وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ
وَلَوِ : اور اگر اتَّبَعَ : پیروی کرتا الْحَقُّ : حق (اللہ) اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات لَفَسَدَتِ : البتہ درہم برہم ہوجاتا السَّمٰوٰتُ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضُ : اور زمین وَمَنْ : اور جو فِيْهِنَّ : ان کے درمیان بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِذِكْرِهِمْ : ان کی نصیحت فَهُمْ : پھر وہ عَنْ ذِكْرِهِمْ : اپنی نصیحت سے مُّعْرِضُوْنَ : روگردانی کرنے والے ہیں
اور اگر (خدائے) برحق ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں
(23:71) لفسدت۔ لام تاکید کا ہے فسدت ماضی واحد مؤنث غائب۔ تو (آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے) درہم برہم ہوجاتے ۔ تباہ ہوجاتے ۔ اتینہم بذکرہم۔ ہم تو ان کے پاس ان ہی کی نصیحت کی بات لائے تھے۔ ذکر سے مراد القرآن ہے جو ان کے لئے باعث فخرو شرف ہے اور اس میں ان کے لئے موعظت حسنہ ہے۔ معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ روگردانی کرنے والے۔ منہ موڑنے والے، اجتناب کرنے والے۔ اعراض مصدر۔ باب افعال۔ اعرض لی۔ وہ میرے سامنے آیا۔ اعرض عن۔ اس نے رخ پھیرلیا۔ منہ موڑ لیا۔
Top