بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Urwatul-Wusqaa - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
اللہ کا حکم آپہنچا پس اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ ، اس کی ذات بلند ہے جو یہ لوگ شرک کر رہے ہیں
اللہ کا حکم آگیا ؟ وہ کونسا حکم تھا جس کے متعلق آپ کو یقین دہانی کرائی گئی : 1۔ (امر اللہ) سے مقصود اللہ کی یہ ٹھہرائی ہوئی بات ہے کہ دعوت وحی کامیاب ہوتی ہے اور اس کی مخالف قوتیں ناکام رہتی ہیں ۔ اس حقیقت کو قرآن کریم نے ” قضائے بالحق “ اور ” شہادت الہی “ سے بھی تعیری کیا ہے ۔ منکر اس بات کی ہنسی اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچ مچ کو ایسا ہونے والا ہے تو کیوں نہیں ہو چکتا ؟ یعنی کیوں اللہ کا حکم ظہور میں نہیں آجاتا ؟ ابتدائی عہد کی سورتوں میں کہا گیا تھا کہ قانون حق نے ہر بات کے لئے ایک وقت ٹھہرا دیا ہے اور وہ اپنے وقت ہی پر ظاہر ہوتی ہے اور اب اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے یعنی بالکل قریب ہے کیونکہ اب مخالفوں کا ظلم وتشدد انتہائی حد تک پہنچ چکا تھا اور مومنوں پر زندگی دشوار ہوگئی تھی اور عنقریب ہجرت مدینہ کا معاملہ ظہور میں آنے والا تھا اور اس کا ظہور فیصلہ امر کا اعلان تھا ۔ سوال یہ ہے کہ یہ ” فیصلہ “ کیا تھا اور کس شکل میں آیا ؟ ظاہر ہے کہ کفار مکہ بار بار آپ ﷺ سے جو مطالبہ کرتے تھے وہ عذاب الہی کے آنے کا کرتے تھے کہ آپ ﷺ جس عذاب کی دھمکیاں ہمیں دیا کرتے ہیں وہ لے آئیے ، اللہ تعالیٰ کے ہاں ! ہر کام حکمت سے ہوتا ہے اور اپنے متعین وقت پر ہوتا ہے ان کی اس قسم کی طفلانہ حرکتیں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تو نہیں بدل سکتیں ؟ چناچہ ہجرت سے پہلے بارہ تیرہ سال مکہ میں گزرے ان میں اگرچہ کفار مکہ کی طرف سے دل آزاریوں اور ستم ظریفیوں کی انتہا ہوتی رہی لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون انہیں برداشت کرتا رہا اور اپنے محبوب مکرم ﷺ کو صبر کرنے اور انتظار کرنے کی تلقین کی جاتی رہی ۔ مکہ کے چھوڑنے کی ساعت آپہنچی اور چند ماہ بعد رسول اللہ ﷺ یہاں سے کوچ کرنے والے تھے اس وقت ارشاد ہوتا ہے کہ اسے پمبرہی اسلام ! آج ان متکبروں اور سرکشوں کو بتا دو کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گھڑی اب قریب آپہنچی ہے تمہارے غرور اور نخوت کو خاک وخون میں ملانے کے لئے اس کی شمشیر انتقام بےنیام ہونے والی ہے چناچہ ہجرت کے بعد ابھی دو سال بھی نہ گزرے تھے کہ وہ خود بدر کے میدان میں آئے اور کیفر کردار کو پہنچے اس کے بعد ہر آنے والی ساعت ان کے لئے ہلاکت و بربادی کا پیغام بن کر ہی آتی رہی لیکن انہوں نے اس سے ذرا بھی سبق حاصل نہ کیا اور فتح مکہ ہونے تک برابر وہ ہر سال بلکہ ایک سال میں کتنی کتنی بار شکست کھاتے رہے ۔ اللہ کی ذات اس سے بہت بلند ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں : 2۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بھی منزہ اور اس کی صفات بھی ارفع ان تمام نالائق امور سے جو اہل شرک وجاہلیت اس کی جانب منسوب کرتے رہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کفار کو نزول عذاب کے لئے جلدی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے جلدی تو کسی ایسے کام کے لئے کی جاتی ہے جس میں خیروبرکت ہو تباہی و بربادی کے لئے تو ٹلنے کی آرزو کی جاتی ہے اور وہ بڑا ہی نادان ہوگا جو اپنی بربادی کے لئے سخت بےچین ہو ، اللہ تعالیٰ کی ذات تو ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے وہاں کمال ہی کمال ہے کسی کمی یا کمزوری کا کوئی احتمال ہی نہیں باقی ہرچیز خواہ کتنی بڑی کتنی مفید اور کتنی پائیدار ہو وہ عیب سے خالی نہیں اگر اس کو کوئی دوسرا عیب نظر نہ آئے تو یہ عیب تو کسی سے مخفی نہیں کہ وہ اپنے موجود ہونے میں اپنے بنانے والے اور پیدا کرنے والے کی محتاج ہے اور پھر جس میں احتقار اور احتیاج ہو وہ اللہ کا شریک کیسے ہو سکتا ہے ؟
Top