Urwatul-Wusqaa - Aal-i-Imraan : 64
حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ
حَتّيٰٓ اِذَآ : یہاں تک کہ جب اَخَذْنَا : ہم نے پکڑا مُتْرَفِيْهِمْ : ان کے خوشحال لوگ بِالْعَذَابِ : عذاب میں اِذَا هُمْ : اس وقت وہ يَجْئَرُوْنَ : فریاد کرنے لگے
یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال آدمیوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر اچانک آہ وزاری کر رہے ہوں گے
ان کی پکڑ کا جب وقت آئے گا تو وہ چیخیں مارتے رہ جائیں گے : 64۔ یہاں تک کہ جب ہم ان خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ آہ زاری کریں گے ۔ “ قرآن کریم نے جگہ جگہ ان صاحب مال واولاد لوگوں کا ذکر کیا ہے جو قوم کے دولت مند طبقہ میں سے ہوتے ہیں ہم نے ان کو تفصیل کے ساتھ سورة بنی اسرائیل کی آیت 16 کے تحت بیان کیا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ اس سے اتنی بات تو سب کو معلوم ہوجانا چاہئے کہ انفرادی زندگی میں بدعملی کا بڑا مرکز دنیوی خوش حالی کی زندگی ہوجاتی ہے اور ہمیشہ حق وصداقت کی مخالفت وہیں سے شروع ہوتی ہے اور اس کا سبب واضح ہے کہ خوش حالی و ثروت کی حالت ایک ایسی حالت ہے کہ اگر کسی جماعت میں پھیلی ہوئی ہو تو اس سے بڑھ کر کوئی برکت نہیں اور اگر ایک جماعت کے چند افراد میں سمٹی ہوئی ہو تو اس سے بڑھ کر کوئی لعنت نہیں اور بلاشبہ قوم کے لئے یہ ایک بہت بڑا فتنہ ثابت ہوتی ہے اگر آنکھ بینا رکھتے ہو تو اس وقت اپنے ملک عزیز پاکستان کی حالت پر نگاہ ڈال لو تم کو صاف صاف نظر آئے گا کہ یہ بات کس قدر اپنے اندر سچائی رکھتی ہے ، جہاں آج کل دولت پاکستان کے بیت المال سے نکل کر چند گنتی کے آدمیوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے اور جہاں دولت کی ریل پیل چاہئے تھی وہاں بھوک ننگ کے سوا کچھ بھی موجود نہیں ۔ اس ملک عزیز میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں کہ پاکستان کو اگر حکومت بیچ دینا چاہے تو ان ہی کا ایک ایک آدمی اس کو خریدنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھا سکتا ہے ، ظاہر ہے کہ اس طرح جب دولت صرف چند افراد کے قبضہ آگئی تو باقی افراد جماعت محروم رہ گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک عزیز کا غلبہ و تسلط بھی چند افراد کے ہاتھوں میں آگیا اور انہوں نے جہاں چاہا اور جب چاہا اور جس طرف چاہا اس کا منہ موڑ دیا جس سے وہ تکبر ونخوت کے ساتھ بھر گئے جس کا نتیجہ غرور باطل اور استکبار عن الحق کے سوا کچھ نہ نکلا اور نہ ہی کچھ اور نکلنا چاہئے تھا ، لیکن ان کی ساری چیخیں بیکار ثابت ہوئیں کیونکہ اس تاسف کا وقت نکل چکا تھا ۔
Top