Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
آپ کہہ دیجئے دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی خشک ہوجائے تو کون ہے جو صاف ستھرا اور شیریں پانی تمہارے پاس لے آئے ؟
اس بات پر بھی غور کرو کہ اگر تمہارا یہ پانی خشک ہوجائے تو کون ہے جو اس کو لائے گا ؟ 30 ؎ پانی جس پر حیوانی زندگی کا دارومدار ہے خواہ وہ کون ہے ؟ اس پر انسانوں کی زندگی کا بھی انحصار ہے کیونکہ ہوا کے بعد دوسری چیز جو زندگی کیلئے ضروری سمجھی گئی ہے یہی پانی ہے۔ اس کی قدر ہم کو نہیں ہے کیوں ؟ اس لئے کہ ہمارے ہاں اس کی بہتات ہے اور ہم کو اس کی تلاش کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ پانی جس پر تمہاری زندگی کا انحصار ہے اللہ تعالیٰ اس کو خشک کر دے اور اس کو اتنا گہرا کر دے کہ تمہاری دسترس سے باہر ہوجائے تو صرف اتنی بات بتا دو کہ وہ کون ہے جو تم کو یہ پانی لا دے جو اس طرح صاف ستھرا بھی ہو اور ٹھنڈا اور میٹھا بھی۔ اگر تم اسی تلاش میں نکل کھڑے ہو تو تمہاری زندگی کی شام آجائے لیکن تم اس کا پتہ نہیں بتا سکتے۔ اس لئے کہ اللہ کے سوا کوئی اور ایسا موجود ہی نہیں ہے۔ آج تم صرف یہ معلوم کر کے بہت خوش ہو اور پھولے نہیں سماتے کہ فلاں فلاں گیس کے ملا دینے سے پانی بن جاتا ہے۔ مان لیا کہ بن جاتا ہے لیکن ان گیسوں کو بنانے والا کون ہیڈ تمہارا کیا کمال ہے یہی کہ تم نے تجربہ سے ثابت کرلیا کہ فلاں فلاں گیس ملے گی تو پانی بن جائے گا لیکن تم یہ نہ بتا سکے کہ وہ گیس کس نے تیار کی ہے اور اگر تم غور کرو گے تو تم کو ماننا اور تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کو بنانے والا اور ان کا محفوظ کرنے والا اور فضا میں ان کے موجود ہونے کے باوجود وہ کون ہے جو ان کو آپس میں ملنے نہیں دیتا۔ جب ان سارے سوالوں کا جواب پھر اللہ ہی ہے تو الٹا کان پکڑنے کی بجائے سیدھا پکڑنے سے تمہارا کیا نقصان ہے کہ جو بات صاف اور سیدھی ہے اس کو صاف اور سیدھے طریقہ ہی سے مان لیا جائے۔ اس وقت دنیا ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے لیکن اب بھی تقریباً ہر ملک میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں صاف ستھرا اور شیریں پانی کا نصیب ہونا ان کی قسمت ہی نہیں ہے اور وہاں کا پانی اتنا گہرا کر دیاگ یا ہے کہ آج تک نل اور ہینڈ پمپ تو درکنار ٹیوب ویل لگانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور پانی کی جو صفتیں اس جگہ بیان کی گئی ہیں ان صفات کا متحمل پانی مشکل سے بھی دستیاب نہیں ہے لکنا یہ اس کی رحمت و شفقت کی مہربانیاں ہیں کہ اس نے نمک کی کان کے وسط میں میٹھے پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے اور بلاشبہ یہ اس کی کرشمہ سازیاں ہیں ورنہ انسان اس کی تلاش کر کے کبھی اس کو حاصل نہ سکتا تھا بلکہ اس کی عقل ہی اس سے ابی کرتی ہے کہ شور زدہ زمین میں میٹھے اور ٹھنڈے پانی کے چشمے موجود ہوں۔ لیکن ان چیزوں کو آنکھوں سے دیکھ کر تو اس کا شکر بجا لانا انسان کے ایمان کی تازگی کے لئے بہت ضروری ہے اور اسی مضمون پر اس سورت کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں۔ فالحمد للہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو علی کل شیء قدیر۔
Top