Tafseer-e-Usmani - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور وہ لوگ کہ جب ان پر ہو وے چڑھائی تو وہ بدلہ لیتے ہیں3
3  یعنی جہاں معاف کرنا مناسب ہو معاف کرے مثلاً ایک شخص کی حرکت پر غصہ آیا اور اس نے ندامت کے ساتھ اپنے عجزو قصور کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے معاف کردیا۔ یہ محمود ہے اور جہاں بدلہ لینا مصلحت ہو مثلاً کوئی شخص خواہ مخواہ چڑھتا ہی چلا آئے اور ظلم و زور سے دبانے کی کوشش کرے، یا جواب نہ دینے سے اس کا حوصلہ بڑھتا ہے یا ہماری شخصی حیثیت سے قطع نظر کر کے دین کی اہانت یا جماعت مسلمین کی تذلیل ہوتی ہے، ایسی حالت میں بدلہ لیتے ہیں، وہ بھی بقدر اس کی زیادتی کے جرم سے زائد سزا نہیں دیتے۔
Top