Anwar-ul-Bayan - Saad : 55
هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لِلطّٰغِيْنَ : سرکشوں کے لیے لَشَرَّ : البتہ برا مَاٰبٍ : ٹھکانا
اس بات کو سمجھ لو، اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے جہنم ہے
سرکشوں کا برا انجام، دوزخ میں ایک دوسرے سے بیزار ہونا اہل سعادت کا اکرام اور انعام بیان کرنے کے بعد فرمایا ھٰذَا یعنی یہ بات جو اوپر بیان ہوچکی اس کو محفوظ رکھو اور یاد رکھو اس کے بعد اہل شقاوت کا حال معلوم کرو اور وہ یہ ہے کہ سرکشوں کا برا ٹھکانہ ہوگا یعنی یہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے اور برا بچھونا ہے (چونکہ دوزخیوں کے نیچے بھی آگ ہوگی اس لیے اسے برا بچھونا فرمایا) یہ عذاب ہے سو اسے چکھ لو، حمیم ہے اور غساق ہے اور اسی طرح کا مختلف قسم کا عذاب ہے۔ مثلاً ضریع ہے اور زمہریر ہے زقوم ہے اور غسلین ہے، صعود ہے اور مقامع ہے وغیرہ ذالک حمیم گرم پانی کو کہتے ہیں سورة محمد میں فرمایا (وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ ) (اور انہیں کھولتا ہوا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا) اور غساق کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کا ایک ڈول دنیا میں ڈال دیا جائے تو تمام دنیا والے سڑ جائیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح از ترمذی ص 503) غساق کیا چیز ہے اس کے بارے میں صاحب مرقاۃ (شرح مشکوٰۃ) نے چار قول نقل کیے ہیں۔ (1) دوزخیوں کی پیپ اور ان کا دھواں مراد ہے۔ (2) دوزخیوں کے آنسو مراد ہیں۔ (3) زمہریر یعنی دوزخ کا ٹھنڈک والا عذاب مراد ہے۔ (4) غساق سڑی ہوئی اور ٹھنڈی پیپ ہے جو ٹھنڈک کی وجہ سے پی نہ جاسکے گی، (مگر بھوک کی وجہ سے مجبوراً پینی پڑے گی) بہرحال غساق بہت بری چیز ہے جو بہت ہی زیادہ بد بو دار ہے۔ (اَللّٰھُمَ اَعِذْنَا مِنْہُ ) اس کے بعد اہل دوزخ کا ایک باہمی مکالمہ نقل فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ پہلے سے دوزخ میں جاچکے ہوں گے (علی التعاقب اس طرح کی بہت سی جماعتیں جانے والی ہوں گی) تو بعد میں آنے والی جماعت کو دیکھ کر پہلے داخل ہونے والی جماعت کہے گی، یہ ایک جماعت اور آئی جو تمہارے ساتھ عذاب بھگتنے کے واسطے یہیں گھسنے کے لیے آرہی ہے ان کے لیے کوئی مرحبا نہیں یعنی ان کے آنے کی کوئی خوشی نہیں یہ بھی جہنمی ہم بھی جہنمی ہمیں ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ بعد میں آنے والی جماعت جواب میں کہے گی (جو دنیا میں پہلی جماعت کی پیروکار تھی اور اس کے بہلانے اور ورغلانے سے کفر اختیار کیے ہوئے تھی) بلکہ تمہارے لیے کوئی مرحبا نہیں ہے تم یہ عذاب ہمارے آگے لائے یعنی تم نے ہمیں کفر پر ڈالا اور جمایا جس کے نتیجے میں ہم یہاں عذاب بھگتنے کے لیے داخل کیے گئے اس کے بعد وہ بعد میں آنے والی جماعت (جو اتباع تھے) اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنے متبوعین یعنی بڑوں اور سرداروں کی سزا کے لیے یہ درخواست پیش کریں گے کہ اے ہمارے رب جو شخص ہمارے لیے عذاب کو آگے لایا اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دیجیے۔ یہاں دنیا میں ایک دوسرے سے تعلق بھی رکھتے ہیں چھوٹے لوگ اپنے بڑوں کی بات بھی مانتے ہیں اور ان کے کہنے سے کفر پر جمے رہتے ہیں لیکن جب وہاں دوزخ میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور چھوٹے لوگ اپنے سرداروں کے لیے دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے۔
Top