Tafseer-e-Saadi - Saad : 55
هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لِلطّٰغِيْنَ : سرکشوں کے لیے لَشَرَّ : البتہ برا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ (نعمتیں تو فرماں برداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے
آیت 55 (ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ (ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت عذاب ‘ یہ فضیحت ور سوائی اور یہ سزا (فلیذوقوہ حمیم) پس اسے چکھو ‘ کھولتا ہوا پانی ہوگا، جو سخت گرم ہوگا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ (وغساق) یہ بدترین پینے کی چیز ہوگی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہوگی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔ (واخر من شکلۃ) یعنی اس کی ایک اور قسم (اذواج) یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سی ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے : (ہذا فوج مقھم معکم) ” یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ گھسی چلی ارہی ہے “ آگ میں (لامرحبا بھم انھم صالو النار) ” ان کے لئے کوئی خیر مقدم نہیں ہے۔ بیشک یہ دوزخ میں جانے والے ہیں “۔ (قالوا) وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے : (بل انتم لامرحبایکم انتم قدمموہ) ” بلکہ تم ہی ہو، تمہارا خیر مقدم نہ ہو، تم ہی تو لائے تھے اسے “ یعنی عذاب کو (لنا) ” ہمارے پاس “ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کرکے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لئے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ (فبئس القرار) اب ہم سب کے لئے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔ پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور (قالوا ربنا من قدم لنا ہذا فردہ عذابا ضعفا فی النار) ” کہیں گے : اے ہمارے رب ! جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دگنا عذاب دینا “ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قال لکل ضعف ولکن لاتعلمون) (الاعراف : 8/73) ”(آس وقت) اللہ فرمائے گا : سب کے لئے دگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں “۔ (وقالوا) اور وہ جہنم کے اندر کہین گے (مالنا لانری رجالاً کنانعد ھم من الاشرار) یعنی ہمیں خیا ہوگیا ہے، جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے ؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے ؟ اتخذنھم سخریا ام زاغت عنھم الابصار) ” کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں “۔ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دواسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرارشمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے، جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (انہ کان فریق من عبادی یقولون ربنا امنا فاغفرلنا ارحمنا و انت خیر الرحمین۔ فاتخذ تمھم سخریا حتی انسوکم ذکری و کنتھم منھم تضحکون) (المومنون : 32/901۔ 011) ” بیشک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے : اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے، لہٰذا ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انہیں نشانہء تضحیک بنایا کرتے تھے “۔ دوسری بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انہوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انہوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انہوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی، اسی لئے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے {{: (اھولاء الذین اقستم لا ینا لھم اللہ برحمتہ ادخلو الجنۃ لاخوف علیکم و الاانتھم تحزنون) (الاعراف : 8/93) ” کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحا 8 ت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ (ان کو یوں حکم ہوگا کہ) تم جنت میں داخل ہوجاؤ، تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہو گے “۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ (ان ذلک) ” بیشک یہ “ جس کا میں نے تمہارے سامنے ذکر کیا ہے (لحق) ” حق ہے “ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ (تخاصم اہل النار) ” اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے “۔
Top