Al-Qurtubi - Saad : 55
هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لِلطّٰغِيْنَ : سرکشوں کے لیے لَشَرَّ : البتہ برا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ (نعمتیں تو فرماں برداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے
55 ۔ 61:۔ جب متقین کا ذکر کیا تو سرکشوں کے انجام کا بھی ذکر کیا۔ زجا ج نے کہا : ھذا یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہے الامرھذا اس وجہ سے ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف اچھا ہے پھر تو و ان للطغین سے کلام کا آغاز کرے گا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ ماب۔ سے مراد لوٹنے کی جگہ ہے جس کی طرف وہ لوٹیں گے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی : جہنم یصلونھا فبئس البھاد۔ انہوں نے جو اپنے لئے ٹھکانہ تیار کیا ہے وہ کتنا برا ہے یا یہ بستر ان کے لئے کتنا برا ہے اسی سے بچے کا پنگھوڑا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں حذف ہے تقدیر کلام یہ ہے بئس موضع المھاد۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی یہ ہے کہ جس کی صفت بیان کی گئی ہے وہ ان متقین کے لئے ہے پھر فرمایا کہ سرکشوں کے لئے لوٹنے کی بری جگہ ہے ‘ تو اس صورت میں ھذا پر وقف کیا جائے گا۔ ھذا فلیذ وقوہ حمیم و غساق۔ ھذا مبتدا ہونے کی حیثیت سے محل رفع میں ہے اس کی خبر حمیم ہے کلام میں تقویم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہے ھذا حمیم و غساق فلید و قوہ ‘ فلیذو قوۃ پر وقف نہیں کیا جائے گا۔ یہ بھی جائز ہے کہ ھذا مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہو اور فلیذو قوہ خبر ہو فعل پر فاء اس لیے آئی ہے کیونکہ ھذا میں الذی کا معنی پایا جاتا ہے اس صورت میں فلیذ وقوہ پر عطف کیا جائے گا اور حمیم کو اس تقدیر کی بناء پر رفع دیا جائے گا ھذا حمیم۔ نحاس نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ معنی الامرھذا جمیم اور غساق کو جب تو خبر نہ بنائے تو ان دونوں کا رفع اس تقدیر پر ہوگا ھو حمیم و غساق فراء نے اس تعبیر کی بنا پر دونوں کو رفیع دیا۔ منہ حمیم و منہ غساق اور یہ شعر پڑھا : حتی اذا ما اضاء الصبح فی غلس و غودر البقل ملوی و محصود جب تاریکی میں صبح روشن ہوئی سبزیوں کو چھوڑ دیا گیا ان میں سے کچھ لپٹی ہوئی تھیں اور کچھ کٹی ہوئی تھیں۔ محل استدلال ملوی و محصود ہے اصل میں منہ ملوی اور منہ محصود تھا۔ ایک اور شاعر نے کہا : لھا متاع و اعوان عدون بہ قتب و غرب اذا ما افرغ انحسفا یہ بھی جائز ہے کہ ھذا محل نصب میں ہو اور فعل مضمر جس کی تقفسیر فلیذو قوہ بیان کرتا ہے اور حمیم و غساق سے تو نئی کلام شروع کرے گا تقدیر کلام یوں ہوگی الامرحمیم و غساق۔ اہل مدینہ ‘ اہل بصرہ میں بعض کو فیوں کے نزدیک غساق میں قراءت سین کی تخفیف کے ساتھ ہے۔ یحییٰ بن و ثاب ‘ اعمش ‘ حمزہ اور کسائی نے عشاق تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ اخفش کے قول میں دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دونوں کا معنی مختلف ہے جس نے اس کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے تو اس صورت میں یہ محض اسم ہوگا جیسے عذاب ‘ جواب ‘ صواب ‘ جس نے اسے مصدر پڑھا ہے اس نے کہا : یہ اصل میں اسم مبالغہ ہے جو مبالغہ کے طریقہ پر فعال کی طرف نقل کیا گیا ہے جیسے ضراب ‘ قتال یہ غسق بغسق سے فعال کے وزن پر ہے اس سے اسم فاعل غساق اور غاسق کے وزن پر آتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد سخت ٹھنڈک ہے جو انہیں اپنی ٹھنڈک کے ساتھ خوفزدہ کرے گی۔ مجاہد اور مقاتل نے کہا : اس سے مراد ایسی براف ہے جس کی ٹھنڈک انتہائی کو پہنچی ہوئی ہوگی (1) ۔ دوسرے علماء نے کہا : گاڑھی پیپ ہوگی اگر اس میں کوئی چز مشرق میں گرے تو جو مغرب میں ہوگا وہ اس کی وجہ سے بدبو دار ہوجائے گا اگر اس میں کوئی چیز مغرب میں گرے تو جو مشرق میں ہیں اس سے بدبودار ہوجائیں گے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ چیز ہے جو بدکاروں کی شرمگاہوں اور کافروں کے گوشتوں اور ان کی جلدوں سے کچ لہو اور پیپ میں سے بدبو دار چیز نکلے گی۔ محمد بن کعب نے کہا : یہ جہنمیوں کا نچڑن ہے ‘ یہ قول لغت کے زیادہ مشابہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : غسق الجرح یغسق غسقا یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب اس سے زیادہ پانی نکلے۔ شاعر نے کہا : اذا ما تذکرت الحیاۃ و طیبھا الی جرسی دمع من اللیل غاسق جب میں نے زندگی اور اس کی اچھائی کو ظاہر کیا تو آنکھ سے ٹھنڈا آنسو بہہ پڑا۔ یہ کہا جاتا ہے لیل غاسق کیونکہ وہ دن سے ٹھنڈی ہوتی ہے۔ سدی نے کہا : غساق سے مراد وہ چیز ہے جو ان کی آنکھوں اور آنسئوں سے بہے جسے وہ حمیم) کھولتے ہوئے پانی ( کے ساتھ پیتے ہیں۔ ابن زید نے کہا : حمیم سے مراد ان کی آنکھوں کے آنسو ہیں جو جہنم کے حوضوں میں جمع ہونگے جسے وہ پیئیں گے۔ صد یدا سے کہتے ہیں جو ان کے چمڑوں سے نکلے گی۔ اس قول کو ختیار کرنے کی بناء پر غساق سیال کی طرح ہوگا۔ کعب نے کہا : غساق جہنم میں ایک چشمہ ہے جس میں بچھو اور سانپ وغیرہ کا زہر اس کی طرف بہتا رہے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ظلمت اور سواد سے ماخوذ ہے ‘ غسق سے مراد رات کی تاریخ کا آغاز ہے قدغسق الیل اس وقت کہتے ہیں جب وہ تاریک ہوجائے۔ ترمذی شریف میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لو ان دلوا من غساق یہراق فی الدنیا لا نتن اھل لدنیا اگر غساق کا ایک ڈول دنیا میں بہایا جائے تو دنیا والے بدبودار ہوجائیں گے۔ میں کہتا ہوں : یہ پہلے اشتقاق کے زیادہ مناسب ہے جس طرح ہم نے بیان کیا مگر یہ احتمال موجود ہے کہ غساق بہنے کے ساتھ سیاہ ہوجائے تو دونوں اشتقاق صحیح ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ و اخر من شکلۃ ازواج۔ ابو عمرو نے و اخر پڑھا ہے یہ آخری کی جمع ہے جس طرح کبری کی جمع کبر آتی ہے۔ باقی قراء نے اسے و آخر مفرو مذکر پڑھا ہے ابو عرو نے و آخر نے کا انکار کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ازواج جمع کی خبر واحد سے نہیں لگائی جاتی ہے۔ عاصم حجدری نے و اخر کا انکار کیا ہے اگر یہ واخر ہوتا تو کلام یوں ہوتی من شکلھا دونوں امر لازم نہیں قراءتیں صحیح ہیں و اخر ہو تو معنی یہ ہوگا حمیم اور غساق کے سوا دوسرا عذاب۔ من شکلۃ قتادہ نے کہا : اسی کی مثل حضرت ابن مسعود نے کہا : وہ زمہر یر ہے واخر مرفوع ہے (1) کیونکہ یہ مبتدا ہے آزواج یہ دوسرا مبتدا ہے من شکلۃ یہ اس کی خبر ہے اور جملہ) آخر ( کی خبر ہے یہ بھی جائز ہے کہ واخر مبتدا ہو اور اس کی خبر مضمر ہو جس پر یہ کلام دلالت کرتی ہے ھذا فلیذ و قوۃ حمیم و غساق۔ کیونکہ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ یہ انہیں کے لئے ہے گویا یہ کلام کی ولھم آخر تو اس صورت میں من شکلۃ آزواج ‘ اخر کی صفت ہوگی پس مبتدا صفت کے ساتھ خاص ہوجائے گا آزواج ظرف کے ساتھ مرفوع ہے۔ جس نے واخر پڑھا اس نے ارادہ کیا عذاب کی اور قسموں کا ‘ جس نے اسے جمع کا صیغہ پڑھا اور زمہر یر کا ارادہ کیا تو زمہریر کی کئی جنسیں بتائیں تو اس جمع ذکر کیا کیونکہ جنس مختلف ہیں یا ان سے ہر چیز کو زمہر یر بنا دیا پھر اس کی جمع بنائی جس طرح عربوں نے کہا : شابت مفارقہ یاء جمع کا صیغہ ہے کیونکہ کلام میں جمع کے جواز پر دلالت موجود ہے کیونکہ زمہریہ جو سردی کی انتہاء کو کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں جمع کے مقابل ہے : ھذا فلیذ و قوہ حمیم و غساق۔ شکلۃ میں ضمیر جائز ہے کہ وہ حمیم یا غساق کی طرف لوٹے یا اس معنی کی طرف لوٹے جو ہم نے و اخر من شکلہ میں ذکر کیے ہیں آخر کو جب جمع کے صیغہ کی حیثیت سے پڑھیں گے تو یہ مبتدا ہونے کی حیثیت میں مبتدا ہوگا من شکلہ اس کی صفت ہوگا اس میں ضمیر مذکر ہے جو مبتدا کی طرف لوٹتی ہے اور ازواج مبتدا کی خبر ہے یہ جائز نہیں کہ اس تقدیر پر اسے محمول کیا جائے و لھم اخر ‘ من شکلۃ اس کی صف ہو اور ازواج ظرف کے ساتھ مرفوع ہے جس طرح یہ افراد میں جائز ہے کیونکہ جب ازواج مرفوع ہو تو صفت میں کوئی ضمیر نہ ہوگی ‘ یہ ابو علی نے کہا۔ ازواج کا معنی عذاب کی اصناف و الوان ہیں۔ یعقوب نے کہا : جب شکل شین کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی مثل ہوگا اور جب شین کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ایسی عورت ہوگا جو اچھی گفتگو کرنے والی ‘ اچھے مزاج اور ہئبت والی ہوگی۔ ھذا فوج مقتحم معکم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب قائدین جہنم میں داخل ہوں گے (1) پھر ان کے بعدان کے پیروکار داخل ہونگے تو خازن ‘ سرداروں کو کہیں گے : انکی منازل آگ میں خوشگوار نہ ہوں گی۔ الرجب کا معنی وسعت ہے اسی سے رحبۃ المسجد ہے یعنی مسجد کا صحن۔ یہ دعا کے لئے لفظ استعمال کیا جاتا ہے اسی وجہ سے نصب دی جاتی ہے نابغہ نے کہا : لا مرحبا بغد ولا اھلا بہ ان کان تفریق الاحبۃ فی غد کل کو نہ مرحبا ہے اور نہ ہی اہلا وسہلا ہے اگر کل دوستوں کے درمیان جدائی ہوئی ہے۔ ابوعبید نے کہا : عرب کہتے ہیں لا مرحبابک۔ نہ تیرے لیے زمین خوشگوار ہوئی اور نہ ہی وسیع ہوئی۔ انھم صالو النار۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قائدین کا قول ہے یہ جہنم میں داخل ہونے والے ہیں جس طرح ہم نے انہیں جہنم میں داخل کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ملائکہ کا قول ہے یہ ان کے قول ھذا فوج مقتحم معکم اور قالو بل انتم لا مرحبا بکم کے ساتھ متصل ہے ‘ یہ متبعین کا قول ہے۔ نقاش نے بیان کیا ہے کہ پہلی جماعت مشرکین ہے کے سردار اور بدر کے روز انہیں کھانا کھلانے والوں کی ہوگی ‘ دوسری جماعت بدر میں ان کی اتباع کرنے والوں کی ہوگی۔ آیت کا ظاہر اس پر دال ہے کہ یہ ہر تابع اور متبوع کو عام ہے۔ انتم قدمتموہ لنا یعنی تم نے ہمیں عصیان کی طرف دعوت دی فبئس القرار ہمارا اور تمہارا ٹھکانہ کتنا برا ہے قالو ربنا من قدم لنا ھذا پیرو کاروں نے کہا : فراء نے کہا : فراء نے کہا : جس نے ہمارے لئے اس عمل کو جائز قرار دیا اور اس کی سنت قائم کی۔ دوسرے علماء نے کہا : جس نے ہمارے حق میں عذاب کو مقدر کیا کہ ہمیں معاصی کی طرف دعوت دی فردہ عذابا ضعفا فی النار۔ یعنی ان کے حق میں اس وجہ سے بھی عذاب مقدر ہے کہ انہوں نے ہمیں اس امر کی طرف بلایا تو اس طرح ان کے حق میں یہ دگنا ہوجائے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : عذابا ضعفا سے مراد چھوٹے بڑے سانپ ہیں (1) اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ربنا ھٔولاء اصلونا فاتھم عذابا ضعفا من النار) الاعراف (38:
Top