Jawahir-ul-Quran - Saad : 55
هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لِلطّٰغِيْنَ : سرکشوں کے لیے لَشَرَّ : البتہ برا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ سن چکے اور تحقیق شریروں کے واسطے ہے40 برا ٹھکانا
40:۔ ” و ان للطاغین۔ تا۔ تخاصم اھل النار۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ فرمانبردار مومنین کے مقابلے میں سرکشوں کا انجام ناہیت برا ہوگا۔ ” طاغین “ سے سرکش کفار و مشرکین کے سردار و رؤسا مراد ہیں جو ان کو شرک کی دعوت دیتے تھے۔ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا۔ یہ دنیا میں تمہاری سرکشی کی سزا ہے۔ اب اس کا مزہ چکھو۔ کھولتا ہوا پانی اور دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ انہیں پینے کے لیے دی جائے گی۔ اور ان کے لیے اس سے ملتے جلتے عذاب اور مشروبات کی اور بھی کئی قسمیں تیار ہوں گی۔ الغساق ما یغسق من صدید اھل النار (مدارک) ۔ ولھم مذوقات او انواع عذاب اخر (روح ج 23 ص 215) ۔
Top