Maarif-ul-Quran - Saad : 55
هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لِلطّٰغِيْنَ : سرکشوں کے لیے لَشَرَّ : البتہ برا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ (نعمتیں تو فرماں برداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے
بعداز ذکر احوال سعداء تذکرۂ مجرمین واشقیاء : قال اللہ تعالیٰ ھذا : (آیت ) ” وان للطغین ....... الی ....... ان ذلک لحق تخاصم اھل النار “۔ قرآن کریم کا یہ طرز بیان ہے کہ اخیار و برگزیدہ بندوں کے ذکر کے بعد اشقیاء وبدبختوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور مطیعین پر انعامات کے بیان کے بعد مجرمین کی سزاؤں کو ذکر فرمایا جاتا ہے تو اسی طرح یہاں بھی انبیاء سابقین کے اوصاف و فضائل کے بعد نافرمانوں اور سرکشوں کی سزاؤں اور انکی بدحالی کو بیان کیا جارہا ہے ، فرمایا یہ سن چکے جو انعامات و فضائل تھے اہل وتقوی اور مطیعین اور سرکشوں ونافرمانوں کے لئے تو بد ترین ٹھکانہ ہوگا جو جہنم ہے جس میں یہ گھسیں گے سو کیا ہی وہ بری جگہ آرام کی ہوگی یہ ہے عذاب مجرمین کے لئے اب چاہئے کہ یہ مجرمین اس عذاب کو چکھیں جو کھولتا ہوا گرم پانی ہے اور پیپ اور اسی قسم کی اور بھی طرح طرح کے شدید اور درد ناک عذاب میں ان مجرمین اور سرکشوں کو جو نافرمانوں کے پیشوا تھے مبتلا کرتے ہوئے کہا جائے گا یہ ایک اور جماعت ہے لو دیکھ لو جو گھسی اور دھنستی چلی آرہی ہے تمہارے ساتھ جہنم میں جن کو دیکھتے ہوئے تم کہو گے نہ ہو جگہ تمہارے واسطے کشادہ اور آرام کی یہ تو جہنم میں گھسنے والے لوگ ہیں اس لیے ان کے آنے کی کیا خوشی ہوسکتی ہے اور کیا ہی ان سے کو چیز اور نفع کی توقع کی جاسکتی ہے اس پر وہ لوگ جنہوں نے اپنے بڑوں کی پیروی کی تھی اپنے متبوعین کو غصہ اور نفرت سے کہیں گے تمہارے ہی واسطے نہ ہو کوئی جگہ کشادہ اور ٹھکانہ آرام کا تم ہی نے تو ہم کو یہاں لا اتارا ہے سو یہ تو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے پھر اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہیں گے اے ہمارے پروردگار جس کسی نے ہمیں یہاں لا اتارا ہے اصل مجرم تو وہی ہے بس اس کا عذاب تو جہنم میں دو گنا کردے اور اسی حالت میں از راہ تعجب وحیرت کہیں گے کیا ہوگیا کہ ہم یہاں نہیں دیکھ رہے ہیں ان لوگوں کو جن کو ہم برے لوگوں میں شمار کیا کرتے تھے ان کے مذہب ودین اور انکے اعمال واحوال کو ہم بری نظر سے دیکھتے تھے اور ہم نے ان ایمان والوں کو مذاق بنایا ہوا تھا جن کو دیکھ کر ہم ان پر ہنسا کرتے اور ان کو ذلیل کرتے تھے واقعۃ وہ لوگ اس جگہ نہیں ہیں یا ہماری نگاہیں ان سے چو ک گئی ہیں بیشک یہ بات برحق ہے یعنی جھنمیوں کا اس طرح آپس میں جھگڑنا کہ ایک دوسرے پر لعنت وملامت کریں گے اور سوائے حسرت وملامت کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا اور آپس میں ایک دوسرے پر طعن وتشنیع اور ملامت سے عذاب جہنم میں تخفیف کے بجائے قلبی کوفت اور ذہنی پریشانی میں اور اضافہ ہوگا جسمانی تکلیف کی تو پہلے ہی کوئی حد نہ ہوگی اس ذہنی کو فت سے انکی اذیتوں کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔ یہ گفتگو جس کا ذکر ان آیات میں فرمایا گیا جہنمیوں کی آپس میں ہوگی جس وقت فرشتے ان کو فوج در فوج لا لا کر جہنم کے کنارے پر جمع کرتے ہوں گے پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا ان کے بعد ان کے متبعین اور چھوٹوں کو لایا جائے گا تو سرداروں کی جماعت اس دوسری جماعت کو دور سے آتے دیکھ کر کہے گی لو دیکھ لو یہ ایک اور فوج دھنستی اور کھپتی چلی آرہی ہے تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے کے لئے خدا کی مار ہو ان پر یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے خدا کرے انکو کہیں کشادہ اور آرام کی جگہ نہ ملے ان سرداروں کی گفتگو سن کر یہ چھوٹے کہیں گے کمبختو ! تم ہی پر خدا کی مار ہو تم کو ہی کوئی جگہ آرام کی نہ ملے تم ہی تو تھے کہ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور آج تمہاری ہی بدولت ہم اس مصیبت میں مبتلا ہورہے ہیں اب تو بس یہی ایک ٹھکانہ ہے اور کوئی جگہ ہے کہاں کہ جس میں جائیں اس لعن وطعن کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہو کر دعا کریں گے کہ اے پروردگار ان لوگوں کو دوگنا عذاب دے جنہوں نے ہمیں بھی گمراہ کیا اسی حالت میں ان کے ذہن میں یہ بات آئے گی کہ دنیا کی زندگی میں جن لوگوں کو حقیر اور کمتر سمجھتے تھے اور اپنے مال و دولت کے زعم میں اہل ایمان اور غربا اور فقراء کو حقیر سمجھتے تھے آج وہ یہاں اس ذلت و حقارت کے مقام میں نہیں ہیں تو ایک دوسرے سے سوال کریں گے اور اپنے دنیوی اس اعتقاد کا اس درجہ اثر دماغوں پر مسلط ہوگا کہ یہ سوچنے لگیں گے کہ شاید وہ ہمیں نظر نہیں آرہے ہیں ورنہ تو وہ ضرور یہاں ہونے چاہئیں تو اس طرح مزید ملال اور حسرت کی اذیت میں مبتلا ہوں گے جسمانی اذیتوں کے ساتھ آپس کی تو تو میں میں لعن طعن جھگڑا کرب اور بےچینی میں اضافہ کررہی رہا تھا مزید برآں اس حسرت میں مبتلا ہو کر اور بھی تلملائیں گے بس یہی ان اہل نار کا حال ہوگا جو انکے اعمال واطوار کا نتیجہ ہے حمیم گرم اور کھولتے ہوئے پانی کو کہا جاتا ہے (آیت) ” غساق “۔ اکثر مفسرین فرماتے ہیں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ اور آلائش ہے جو سانپ اور بچھوؤں کے زہر کے ساتھ ملی ہوئی ہوگی اور بعض کا خیال ہے کہ غساق نہایت ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں جو حمیم کی ضد ہے جس کے پینے سے انتہائی اذیت اور تکلیف ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ جامع ترمذی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر اس غساق کا جو جہنمیوں کو پلایا جائے گا، ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو اس کی بدبو اور گندگی سے تمام دنیا والے بدبودار ہوجائیں گویا بدبو ان میں ایسی سرایت کرجائے کہ وہ بذاب خود بدبودار ہوجائیں کعب احبار ؓ بیان کرتے ہیں غساق جہنم میں ایک چشمہ ہے جس کی طرف ہر زہریلے سانپ اور بچھو کا زہر بہ کر آتا ہے جس میں جہنمیوں کو غوطہ دیا جائے گا اور اس کی وجہ سے انکے جسم گل سڑ جائیں گے۔
Top