Anwar-ul-Bayan - Saad : 62
وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے مَا لَنَا : کیا ہوا ہمیں لَا نَرٰى : ہم نہیں دیکھتے رِجَالًا : وہ لوگ كُنَّا نَعُدُّهُمْ : ہم شمار کرتے تھے انہیں مِّنَ : سے الْاَشْرَارِ : (جمع) شریر (بہت برے)
اور کہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بروں میں شمار کرتے تھے
(38:62) قالوا۔ اس میں ضمیر فاعل کا مرجع کون ہے اس میں مختلف قول ہیں :۔ (1) یہ ضمیر سرکش جہنمیوں کے لئے ہے یعنی سردار ان اور ان کے پیروکاروں سب کے لئے۔ الضمیر للطاغین عند جمع (روح المعانی) ۔ الضمیر للطاغین (کشاف) قالوا ای الطاغوت (بیضاوی) آپس میں خوب الجھنے کے بعد وہ ادھر ادھر دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے دریافت کریں گے۔ (ضیاء القرآن) (2) ضمیر سرداران کے لئے ہے جنہوں نے کہا تھا ھذا فوج مقتحم ۔۔ الخ وقالوا۔ یعنی کفار قریش وصنا دیدھم واشراقھم وہم فی النار۔ یعنی کفار قریش۔ ان کے سرداران اور ان کے اشراف کہیں گے۔ (الخازن) الضمیر لرؤساء الکفرۃ۔ ضمیر رؤسائے کفار کے لئے ہے ۔ (مدارک التنزیل) (3) یہ ضمیر پیروکاروں کے لئے ہے۔ وقالوا ۔۔ وہ لوگ (یعنی متبوعین یا سب دوزخی آپس میں کہیں گے ) ۔ (بیان القرآن) مطلب یہ ہے کہ وہ حیران ہو ہوکر ہر طرف دیکھیں گے کہ اس جہنم میں ہم اور ہمارے پیشوا تو موجود ہیں مگر ان لوگوں کو یہاں کہیں پتہ نشان تک نہیں ہے جن کی ہم دنیا میں برائیاں بیان کرتے تھے ۔۔ الخ۔ تفہیم القرآن۔ ما لنا ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم ۔۔ کیا وجہ ہے کہ ہم ۔۔ کیا بات ہے کہ ہم ۔۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ مال ھذا الرسول ۔۔ (25:7) یہ کیسا رسول ہے کہ ۔۔ کیا وجہ ہے کہ یہ رسول ۔۔ کیا بات ہے کہ یہ رسول ۔۔ (کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ مالنا لا نری ۔۔ کیا وجہ ہے کہ ہم دیکھ نہیں رہے ۔۔ کنا نعدہم ۔۔ ماضی استمراری جمع متکلم۔ عد (باب نصر) سے مصدر۔ عدو مادہ۔ شمار کرنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع رجالا ہے۔ جنہیں ہم شمار کیا کرتے تھے (دنیا میں) اشرار۔ برے لوگ شریر کی جمع ۔ شرارت کرنے والے۔ برے لوگ۔ کنا نعدہم من الاشرار۔ یہ صفت ہے رجالا کی۔
Top