Tafseer-e-Haqqani - Saad : 9
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ
اَمْ : کیا عِنْدَهُمْ : ان کے پاس خَزَآئِنُ : خزانے رَحْمَةِ رَبِّكَ : تمہارے رب کی رحمت الْعَزِيْزِ : غالب الْوَهَّابِ : بہت عطا کرنے والا
کیا ان کے پاس خدائے غالب و فیاض کے خزانے ہیں۔
ترکیب : جند مبتدء و ما للابہام کقولہ جئت لا مر ما ومن الاحزاب صفت لجند و مہزوم خبر ھنالک یجوزان یکون صفۃ لجند ای جند ثابت ھنالک ویجوزان یکون متعلقا بمھزوم معناہ ان الجند من الاحزاب مھزوم ھنالک ای فی ذلک الموضع۔ تفسیر : اس شبہ کا جواب خدا تعالیٰ کئی طرح سے دیتا ہے۔ اول بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب ذکری سے مراد دلائل کہ انہوں نے دلائلِ نبوت میں غور و فکر نہ کیا۔ ورنہ یہ شبہ زائل ہوجاتا اور غور و تامل نہ کرنا یوں ہی شک کرلینا، ان کو اس لیے ہوا کہ ابھی میرا عذاب نہیں چکھا یعنی دنیا میں کوئی اس کی سزا ان کو نہیں ملی، اگر ایسا ہو تو شک جاتا رہے۔ انسان یونہی بیجا حجتیں کیا کرتا ہے، مگر جب اس کو شاہی شوکت اور مارپیٹ دکھائی جاتی ہے تو ٹھیک ہوجاتا ہے یا کہو ذکر سے مراد وہ نصیحت ہے جو آنحضرت ﷺ ان کو کرتے تھے، وہ اس میں غور نہ کرتے تھے اور عذاب الٰہی سے بھی ڈراتے تھے، جب دنیا میں وہ ان پر ابھی نہیں آیا تو اور بھی دلیر ہوگئے، ام عندھم خزائن رحمۃ ربک العزیز الوھاب یہ دوسرا جواب ہے کہ خدا زبردست بڑے بخشنے والے کے خزائنِ رحمت ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں کہ جس کو وہ دنیاوی مال و اسباب کی وجہ سے معزز جانیں، اسی کو نبوت کا مرتبہ جلیلہ دیویں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو اس کے لائق دیکھتا ہے عطا کرتا ہے۔ خواہ غنی ہو خواہ فقیر، لفظ وہاب اور عزیز اس کی خود اختیاری اور بےانتہاء بخشش کی طرف اشارہ کرکے یہ بتلا رہا ہے کہ دنیا کی عزت اس کی بخشش کو احاطہ نہیں کرسکتی۔ ام لہم ملک السمٰوٰت والارض وما بینہما فلیرتقوا فی الاسباب یہ تیسرا جواب ہے کہ خزائن اگر ان کے پاس نہیں تو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی حکومت بھی ان کو نہیں کہ جس کو ان کی مرضی ہو یہ عہدہ ملے، اگر ان کو یہ بات حاصل ہے تو فلیرتقوا فی الاسباب تو ان سیڑھیوں پر چڑھ کر کہ جن کے ذریعہ سے پہنچنا ممکن ہو چڑ ہیں اور عرش تک پہنچیں اور تدبیر عالم اور ملکوت کریں اور جس کے پاس چاہیں وہاں سے وحی بھجوادیں بلکہ جند ما ھنالک الخ ان کے لشکروں کو شکست ہے۔ سلطنتِ آسمانی تو کیسی فتح مکہ یا فتح بدر کی طرف اشارہ ہے۔ کذبت الخ اس کے بعد اگلے لوگوں کی شکست اور ان کے انکار رسل سے پستی و ہلاکت یہاں فرماتا ہے، وما ینظر کہ یہ لوگ بھی عذاب اور ہلاکت کے منتظر ہیں، صیحۃ سے مراد ناگہانی ہلاکت کوئی شاعر کہتا ہے۔ صلاح الزمان بال برمک صحیۃً خرو اشد تھا علی الاذقان بعض کہتے ہیں قیامت کے دن نفخ صور کی چیخ کے منتظر ہیں۔
Top