Kashf-ur-Rahman - Saad : 72
فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ
فَاِذَا : پھر جب سَوَّيْتُهٗ : میں درست کردوں اسے وَنَفَخْتُ : اور میں پھونکوں فِيْهِ : اس میں مِنْ : سے رُّوْحِيْ : اپنی روح فَقَعُوْا : تو تم گر پڑو لَهٗ : اس کے لیے ( آگے) سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرتے ہوئے
سو جب میں اس کو پوری طرح درست کر چکوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا۔
(72) پھرجب میں اس کو پوری پوری درست کردوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک یہ بھی فرشتوں کی تکرار تھی جو بیان فرمایا۔ اور فرمایا ایک اپنی جان یعنی آب وخاک سے نہیں بنی غیب سے آئی۔
Top