Tafseer-al-Kitaab - Saad : 61
قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ
قَالُوْا : وہ کہیں گے رَبَّنَا : اے ہمارے رب مَنْ قَدَّمَ : جو آگے لایا لَنَا : ہمارے لیے ھٰذَا : یہ فَزِدْهُ : تو زیادہ کردے عَذَابًا : عذاب ضِعْفًا : دوچند فِي النَّارِ : جہنم میں
وہ بولے اے رب ہمارے42 جو کوئی لایا ہمارے پیش یہ سو بڑھا دے اس کو دونا عذاب آگ میں
42:۔ ” قَالُوْا رَبَّنَا الخ “ رؤسائے شرک کے پیرو کہیں گے اے ہمارے پروردگار، جن کی وجہ سے ہم اس انجام کو پہنچے ہیں یعنی کفر و شرک کی تعلیم دینے والوں کو جہنم کی آگ میں ہم سے دوگنا عذاب دے۔ ” وَقَالُوْا مَا لَنَا الخ “۔ دنیا میں مشرکین اہل توحید کو برا سمجھتے ہیں اور توحید بیان کرنے والوں کو شر و فساد بپا کرنے والے تصور کرتے ہیں۔ قیامت کے دن مشرکین جہنم میں اور اہل توحید جنت میں ہوں گے۔ اس وقت مشرکین اہل توحید کو برا سمجھتے ہیں اور توحید بیان کرنے والوں کو شر و فساد بپا کرنے والے تصور کرتے ہیں۔ قیامت کے دن مشرکین جہنم میں اور اہل توحید جنت میں ہوں گے۔ اس وقت مشرکین اہل توحید کے بارے میں آپس میں گفتگو کریں گے اور کہیں گے کیا بات ہے آج جہنم میں ہمیں وہ لوگ نظر نہیں آرہے جن کو ہم دنیا میں شرارتی اور فسادی کہا کرتے تھے۔ ” اَتَّخَذْتُمُوْھُمْ سِخْرِیًّا الخ “ کیا دنیا میں ہم نے غلطی سے ان کو شرارتی سمجھ کر ان کا مذاق اڑایا لیکن حقیقت میں نیک لوگ تھے۔ اور آج وہ جنت میں ہیں۔ یا وہ ہیں تو کہیں دوزخ ہی میں لیکن ہمیں نظر نہیں آرہے۔ والمعنی ما لنا لا نرھم فی النار الیسوا فیہا فلذلک لا نراھم۔ بل ازاغت عنہم ابصارنا فلا نراہم وھم فیہا (روح ج 23 ص 218) ۔
Top