Tafseer-e-Mazhari - Saad : 61
قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ
قَالُوْا : وہ کہیں گے رَبَّنَا : اے ہمارے رب مَنْ قَدَّمَ : جو آگے لایا لَنَا : ہمارے لیے ھٰذَا : یہ فَزِدْهُ : تو زیادہ کردے عَذَابًا : عذاب ضِعْفًا : دوچند فِي النَّارِ : جہنم میں
وہ کہیں گے اے پروردگار جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے اس کو دوزخ میں دونا عذاب دے
قالوا بل انتم لا مرحبا بکم انتیم قد متموہ لنا فبئس القرار وہ (آنے والے) کہیں گے (ہم پر نہیں) بلکہ تم پر خدا کی مار ‘ تم ہی تو یہ مصیبت ہمارے آگے لائے ہو۔ سو (یہ) جہنم (تمہارا ہمارا) بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ لاَ مَرْحَبًامبِھِمْیہ بددعائیہ جملہ ہے جو پیشوا اپنے اتباع کرنے والوں کے متعلق کہیں گے۔ اِنَّھُمْ صَالُوا النَّار یعنی ہماری طرح اپنے اعمال کی وجہ سے یہ بھی آگ میں آ رہے ہیں۔ لا مرحبا بھم ‘ فوجٌکی صفت ہے ‘ یعنی ان کے گھسنے والوں کے متعلق یہ لفظ کہا جائے گا۔ کسی کے آنے کے موقع پر خوش آمدید کی جگہ عرب مرحبا کہتے ہیں۔ رحب کا معنی ہے کشادہ جگہ اور وسعت۔ اس لفظ کو کہنے سے آنے والے کا اعزاز مقصود ہوتا ہے ‘ لیکن بددعا کے موقع پر لا مرحبا کہا جاتا ہے اور اس سے مقصود ہوتی ہے آنے والے کی تذلیل۔ قالُوْا لاَ مَرْحَبًامبِکُمْیعنی اتباع کرنے والے اپنے پیشواؤں سے کہیں گے کہ تم نے جو کچھ کہا یا ہمارے متعلق جو کچھ کہا گیا ‘ اس کے تم زیادہ مستحق ہو۔ تم خود بھی گمراہ ہوئے اور ہم کو بھی گمراہ کیا۔ اَنْتُمْ قَدَّ مْتُمُوْہُ لَنَا اس عذاب کو یا داخلۂ جہنم کو تم ہی ہمارے آگے لائے۔ قالوا ربنا من قدم لنا ھذا فزدہ عذابا ضعفا فی النار متبعین کہیں گے : اے ہمارے رب ! جو شخص ہمارے آگے یہ (جہنم) لایا ‘ اس کو آگ کے اندر (ہمارے عذاب سے) دوگنا عذاب دے۔
Top