Urwatul-Wusqaa - Saad : 61
قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ
قَالُوْا : وہ کہیں گے رَبَّنَا : اے ہمارے رب مَنْ قَدَّمَ : جو آگے لایا لَنَا : ہمارے لیے ھٰذَا : یہ فَزِدْهُ : تو زیادہ کردے عَذَابًا : عذاب ضِعْفًا : دوچند فِي النَّارِ : جہنم میں
(بعد میں داخل ہونے والے) کہیں گے اے ہمارے رب ! جو (گروہ) یہ مصیبت ہمارے آگے لایا ہے اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دے
بعد میں داخل ہونے والے اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر اس طرھ دعا کریں گے 61۔ بعد میں داخل ہونے والے مریدین ، چیلے اور جیالے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد پہلی چھڑپ تو اپنے پیروں ، وڈیروں اور مذہبی و سیاسی راہنمائوں سے لیں گے اور اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے جس دعا کو ہماری زبان میں بددعا کہتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ! جن بدبختوں نے ہمارے لیے یہ عذاب آگے کیا ہے ان کو ہمارے سامنے دوگنا عذاب میں مبتلا فرما کہ ان کو اس آگ میں دوہرا عذاب ملے یہ ایک فطری تقاضا ہے کہ انسان اپنے کیے پر اتنا جزبز نہیں ہوتا جتنا کہ جب پھنس جاتا ہے تو اس طرح راہنمائی کرنے والے پر جز بز ہوتا ہے اور یہی حالت ان لوگوں کی ہوگئی وہ دوزخ میں اپنے درغنوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور دکھ اور مصیبت میں مبتلا ہیں لیکن اس کے باوجود ان سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں جن سے دنیا میں بہت محبت کرتے تھے اور ان کے اشاروں پر چلا کرتے تھے اور جن کی اتباع کیا کرتے تھے اب دوزخ میں اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ ان لوگوں کو ہم سے بھی زیادہ عذاب میں مبتلا کر دے کہ یہی لوگ ہیں جو ہمارے یہاں لانے کا باعث ہوئے ہیں۔ قرآن کریم میں متکبرین اور متصغرین کے مکالمات کا ذکر اکثر جگہ پر کیا گیا ہے اور اس کی تفصیل بھی سورة بقرہ ، سورة الانعام اور سورة القصص میں گزر چکی ہے اگرچہ ہر جگہ اس کی وضاھت کی گئی ہے کہ ان کی اس مخاصمت کا ان کو کچھ فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ عذاب میں وہ برابر کے شریک ہوں گے اگرچہ بعض وڈیروں کو زیادہ عذاب دینے کا ذکر بھی آیا ہے جیسا کہ جلد ہذا میں سورة العنکبوت کی آیت 13 میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
Top