Anwar-ul-Bayan - Saad : 61
قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ
قَالُوْا : وہ کہیں گے رَبَّنَا : اے ہمارے رب مَنْ قَدَّمَ : جو آگے لایا لَنَا : ہمارے لیے ھٰذَا : یہ فَزِدْهُ : تو زیادہ کردے عَذَابًا : عذاب ضِعْفًا : دوچند فِي النَّارِ : جہنم میں
وہ کہیں گے اے پروردگار جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے اس کو دوزخ میں دونا عذاب دے
(38:61) ضعفا۔ دوگنا۔ علامہ ازہری فرماتے ہیں کہ ضعف کے اصلی معنی کلام عرب میں مثل کے ہیں اور اصل تو یہی ہے۔ پھر ضعف کا استعمال مثل میں بھی کیا گیا اور اس سے زیادہ کے لئے بھی اور زیادتی کی کوئی حد نہیں ہے۔
Top