Jawahir-ul-Quran - Saad : 74
اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ
اِلَّآ : سوائے اِبْلِيْسَ ۭ : ابلیس اِسْتَكْبَرَ : اس نے تکبر کیا وَكَانَ : اور وہ ہوگیا مِنَ : سے الْكٰفِرِيْنَ : کافروں
مگر ابلیس نے48 غرور کیا اور تھا وہ منکروں میں
48:۔ ” الا ابلیس الخ “ یہ جنات کا حال ہے کہ ابلیس جو بہت بڑے اور اونچے رتبے کا مالک تھا۔ بڑا عبادت گذار اور مقرب تھا۔ (شعر) صد ہزاراں سال ابلیس لعیں۔ بود از ابدال امیر المؤمنون۔ لیکن اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے ملعون و مطرود ہوا۔ اس لیے وہ بھی شفیع غالب نہیں بن سکتا۔ یا اس کا ربط یہ ہے کہ دیکھو شیطان کی پیروی نہ کرو اور دعوی توحید کو مان لو۔ ” اِسْتَکْبَرَ ۔ ابلیس نے تکبر کیا۔ اور آدم خاکی کو اپنے مرتبے سے کم جان کر حقیر سمجھا۔ وَکَانَ ، ای و صار منہم باستکبارہ و تعاظمہ علی امر اللہ تعالیٰ (روح ج 23 ص 225) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں غرور و استکبار کی وجہ سے کافر ہوگیا یا ” کان “ اپنے اصل ہی پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ابلیس علم الٰہی میں تھا ہی کافر۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس سے استکبار کا صدور ہوگا۔ ویجوز ان یکون المعنی وکان من الکافرین فی علم اللہ تعالیٰ لعلمہ عز وجل انہ سیصیہ و یصدر عنہ ما یصدر باختیارہ و خبث طویتہ واستعدادہ (روح) ۔
Top