Jawahir-ul-Quran - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
جب کہا تیرے رب نے47 فرشتوں کو میں بناتا ہوں ایک انسان مٹی کا
47:۔ ” اِذْ قَالَ الخ “۔ یہاں سے فرشتوں کا حال بیان کیا گیا ہے کہ وہ بھی اللہ کے حکم کے بندے ہیں۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ ” فَقَعُوْا “ ، قعوا، وقع یقع (فتح) سے جمع مذکر امر حاضر کا صیغہ ہے۔ ای فاسقطوا لہ (روح) ۔ اللہ نے تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں اور خلافت ارضی کو اس کے سپرد کرنے والا ہوں۔ لہذا جب میں اس کی شکل و صورت کو مکمل کر کے اس میں روح پھونک دوں اور وہ ایک کامل انسان کی صورت میں ظاہر ہوجائے تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔ سجود لغیر اللہ کی پوری تحقیق سورة یوسف کی تفسیر حاشیہ نمبر ( 83) میں گذر چکی ہے۔ ” فَسَجَدَ الْمَلٰئِکَةُ الخ “ چناچہ جب آدم (علیہ السلام) کی پیدائش مکمل ہوگئی تو تما فرشتے یکبارگی سر بسجود ہوگئے۔
Top