Kashf-ur-Rahman - An-Noor : 34
اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ
اَللّٰهُ : اللہ نُوْرُ : نور السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین مَثَلُ : مثال نُوْرِهٖ : اس کا نور كَمِشْكٰوةٍ : جیسے ایک طاق فِيْهَا : اس میں مِصْبَاحٌ : ایک چراغ اَلْمِصْبَاحُ : چراغ فِيْ زُجَاجَةٍ : ایک شیشہ میں اَلزُّجَاجَةُ : وہ شیشہ كَاَنَّهَا : گویا وہ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ : ایک ستارہ چمکدار يُّوْقَدُ : روشن کیا جاتا ہے مِنْ : سے شَجَرَةٍ : درخت مُّبٰرَكَةٍ : مبارک زَيْتُوْنَةٍ : زیتون لَّا شَرْقِيَّةٍ : نہ مشرق کا وَّلَا غَرْبِيَّةٍ : اور نہ مغرب کا يَّكَادُ : قریب ہے زَيْتُهَا : اس کا تیل يُضِيْٓءُ : روشن ہوجائے وَلَوْ : خواہ لَمْ تَمْسَسْهُ : اسے نہ چھوئے نَارٌ : آگ نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍ : روشنی پر روشنی يَهْدِي اللّٰهُ : رہنمائی کرتا ہے اللہ لِنُوْرِهٖ : اپنے نور کی طرف مَنْ يَّشَآءُ : وہ جس کو چاہتا ہے وَيَضْرِبُ : اور بیان کرتا ہے اللّٰهُ : اللہ الْاَمْثَالَ : مثالیں لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے وَاللّٰهُ : اور اللہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر شے کو عَلِيْمٌ : جاننے والا
اور بیشک ہم نے تمہارے لئے کھلے کھلے احکام نازل کئے ہیں اور نیز جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے بعض حالات و واقعات اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت کی باتیں نازل کی ہیں
(34) اور بلاشبہ ! ہم نے تمہارے لئے کھلے اور واضح احکام اور جو لوگ تم سے پہلے ہوگزرے ہیں ان کے کچھ واقعات و حالات اور ڈرنے والوں کے لئے موعظت و نصیحت کی باتیں نازل فرمائی ہیں یعنی اس قرآن کریم میں علمی اور عملی احکام بھی نازل فرمائے گزشتہ اقوام کے عبرت ناک حالات بھی مذکور فرمائے اور خدا سے ڈرنے والوں کے لئے موعظت و نصیحت اور عبرت بھی نازل فرمائی اور ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت اور ان کی برات کی جانب اشارہ ہو کہ پہلی امتوں میں بھی اچھے لوگوں کو مطعون کیا گیا ہے جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم ؓ وغیرہ پر جھوٹے الزام لگائے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگو کی برات کی گویا اس قسم کے واقعات پچھلی امتوں میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پہلی امتوں پر بھی ایسے ہی حکم تھے۔ 12
Top