Kashf-ur-Rahman - Saad : 43
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لَهٗٓ : اس کو اَهْلَهٗ : اس کے اہل خانہ وَمِثْلَهُمْ : اور ان جیسے مَّعَهُمْ : ان کے ساتھ رَحْمَةً : ایک رحمت مِّنَّا : ہماری (طرف) سے وَذِكْرٰى : اور نصیحت لِاُولِي الْاَلْبَابِ : عقل والوں کے لیے
اور ہم نے اس کے اہل و عیال اور ان اہل و عیال کے ہمرا ہ اتنے ہی اور اہل و عیال اس کو عطا کئے یہ عطا ہم نے اپنی خاص رحمت کے سبب کی اور نیز اس مقصد سے کی کہ عقل کے لئے ایک یادگار ہے۔
(43) اور ہم نے اس کے اہل و عیال اور اس اہل و عیال کے ہمراہ اتنے ہی اور عیال اس کو عطا کئے یہ عطا ہم نے اپنی رحمت خاص کے سبب سے کی اور اس سب سے اور مقصد سے کہ اہل عقل و دانش کے لئے ایک یادگار ہے - یعنی اہل عقل غور کریں کہ صبر کرنے والوں کو اس طرح بدلا دیا جاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے چاہا کہ ان کو چنگا کرے ایک چشمہ نکالا ان کے لات مارنے سے اسی سے نہایا کرتے اور پیتے رہے ان کو شفا ہوئی اور ان کے بیٹے بیٹیاں چھت کے نیچے دب مرے تھے ان کو چلایا اور اتنی اولاد اور دی۔ خلاصہ : یہ کہ ان کی اولاد فوت ہوچکی تھی بیوی ہر وقت خاوند کی خدمت میں رہتی مکان ا اور بچوں کا کوئی نگراں نہ تھا گائوں والوں نے ان کے مرض کی وجہ سے ان کو گائوں کے باہر ڈال دیا تھا اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد دوچند کرکے دی۔
Top