Tafheem-ul-Quran - Saad : 43
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لَهٗٓ : اس کو اَهْلَهٗ : اس کے اہل خانہ وَمِثْلَهُمْ : اور ان جیسے مَّعَهُمْ : ان کے ساتھ رَحْمَةً : ایک رحمت مِّنَّا : ہماری (طرف) سے وَذِكْرٰى : اور نصیحت لِاُولِي الْاَلْبَابِ : عقل والوں کے لیے
ہم نے اُسے اس کے اہل و عیال واپس دیے اور ان کے ساتھ اُتنے ہی اور 44 ، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر۔ 45
سورة صٓ 44 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بیماری میں حضرت ایوب کی بیوی کے سوا اور سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا حتیٰ کہ اولاد تک ان سے منہ موڑ گئی تھی۔ اسی چیز کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرما رہا ہے کہ جب ہم نے ان کو شفا عطا فرمائی تو سارا خاندان ان کے پاس پلٹ آیا، اور پھر ہم نے ان کو مزید اولاد عطا کی۔ سورة صٓ 45 یعنی اس میں ایک صاحب عقل آدمی کے لیے یہ سبق ہے کہ انسان کو نہ اچھے حالات میں خدا کو بھول کر سرکش بننا چاہیے اور نہ برے حالات میں اس سے مایوس ہونا چاہیے۔ تقدیر کی بھلائی اور برائی سراسر وحدہ لاشریک کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہے تو آدمی کے بہترین حالات کو بدترین حالات میں تبدیل کر دے، اور چاہے تو برے سے برے حالات سے اس کو بخیریت گزار کر بہترین حالت پر پہنچا دے۔ اس لیے بندہ عاقل کو ہر حالت میں اسی پر توکل کرنا چاہیے اور اسی سے آس لگانی چاہیے۔
Top