Ruh-ul-Quran - Saad : 43
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لَهٗٓ : اس کو اَهْلَهٗ : اس کے اہل خانہ وَمِثْلَهُمْ : اور ان جیسے مَّعَهُمْ : ان کے ساتھ رَحْمَةً : ایک رحمت مِّنَّا : ہماری (طرف) سے وَذِكْرٰى : اور نصیحت لِاُولِي الْاَلْبَابِ : عقل والوں کے لیے
اور ہم نے بخشے اسے اس کے اہل و عیال اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر
وَوَھَبْنَا لَـہٗٓ اَھْلَـہٗ وَمِثْلَھُمْ مَّعَھُمْ رَحْمَۃً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ ۔ (صٓ: 43) (اور ہم نے بخشے اسے اس کے اہل و عیال اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر۔ ) دولت و ثروت کی بہتات ہو اور حالات اچھے ہوں تو اجنبی بھی اپنے ہوجاتے ہیں اعزہ و اقرباء کا بھی ہجوم رہتا ہے۔ اور احباب کی بھی رونق لگی رہتی ہے۔ لیکن جب دن پھرجاتے ہیں اور حالات بگڑ جاتے ہیں تو آہستہ آہستہ اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اہلِ دانش کے لیے سبق حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بےسروسامانی جب حد سے بڑھ گئی اور صحت نے جواب دے دیا تو آہستہ آہستہ گھر کے نوکرچاکر رخصت ہوگئے، مہمانوں نے آنا چھوڑ دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش کا یہ زمانہ خاصہ طویل رہا۔ اس لیے بہت سے بچھڑ گئے اور بہت سے پچھڑ گئے۔ آپ کی بیوی کے سوا آپ کے پاس کوئی نہ رہا۔ لیکن جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا تو سب بچھڑے ہوئے واپس آنے لگے۔ خدم و حشم کی بھرمار ہوگئی۔ بعض اہل علم کا کہنا تو یہ ہے کہ آپ کی جو اولاد موت کا شکار ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں ازسرنو زندہ کردیا۔ لیکن اگر یہ بات نہ بھی ہو تو یہ تو ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اولاد عطا فرمائی۔ اور جو کچھ پہلے عطا کر رکھا تھا اس سے بڑھ کر عطا فرمایا۔ اور یہ صرف اس لیے کیا تاکہ لوگوں پر یہ راز کھل جائے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ ہی کے ہو کے جیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے آستانے سے کبھی الگ نہیں ہوتے۔ ایک وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نوازشات بارش کی طرح ان پر برستی ہیں۔ اور دوسری یہ بات بتانا مقصود ہے کہ اس میں عقلمندوں کے لیے غور و فکر کا سامان بھی موجود ہے وہ یہ کہ حالات تو بدلتے رہتے ہیں لیکن بنیادی اقدار کبھی نہیں بدلتیں۔ حالات اچھے ہوں تو انسان میں کبھی سرکشی نہیں آنی چاہیے۔ اسے کبھی یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ میرے پاس جو کچھ ہے یہ میرے دست وبازو کی محنت اور دماغی رعنائی کا نتیجہ ہے۔ بلکہ ہمیشہ اسے یہ احساس رہنا چاہیے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ وہ جس طرح دینے پر قادر ہے اسی طرح چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے تو مجھے اس پر شکرگزار رہنا چاہیے۔ اور اگر اللہ نہ کرے یہ سب کچھ مجھ سے چھن جائے تو تب بھی اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ تقدیر کی بھلائی اور برائی سراسر اللہ وحدہ لاشریک کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہے تو اچھے حالات کو بگاڑ دے اور چاہے تو برے حالات کو سنوار دے۔ ٹھیک کہا بہادر شاہ ظفر نے : ظفر آدمی نہ اسے جانئے گا ہو وہ کیسا ہی صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
Top