Tafseer-e-Madani - Saad : 43
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لَهٗٓ : اس کو اَهْلَهٗ : اس کے اہل خانہ وَمِثْلَهُمْ : اور ان جیسے مَّعَهُمْ : ان کے ساتھ رَحْمَةً : ایک رحمت مِّنَّا : ہماری (طرف) سے وَذِكْرٰى : اور نصیحت لِاُولِي الْاَلْبَابِ : عقل والوں کے لیے
اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ بھی عطا کیا اور ان ہی کے برابر ان کے ساتھ اور بھی اپنی خاص رحمت سے اور ایک عظیم الشان نصیحت (اور یاد دہانی) کے طور پر عقل سلیم رکھنے والوں کیلئے
59 حضرت ایوب کے لیے اہل و عیال کی عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے انکو انکا کنبہ بھی عطا کردیا اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی "۔ سو عطا کرنے والے سب کو ہم ہی ہیں۔ حضرات انبیا و رسل تک بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ پھر اور کوئی کسی کا حاجت روا و مشکل کشا کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ سب اسی وحدہ لاشریک کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی اور اسی کے کرم و عطا کے منتظر ہیں۔ سو جسمانی امراض و عوارض کے خاتمے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو انکے اہل و عیال بھی لوٹا دیئے اور انکے ساتھ انہی کے برابر انکے خدام و حشم بھی۔ ابتلاء و آزمائش کے دور میں آنجناب کے آل و اولاد اوراقرباء میں سے کچھ تو بچھڑ گئے تھے اور کچھ وفات پاگئے تھے۔ اور انکے خدام و غلام وغیرہ بھی سب تتر بتر ہوگئے تھے۔ سو ابتلاء و آزمائش کا دور ختم ہونے کے بعد بچھڑے ہوئے اعزہ و اقرباء پھر مجتمع ہوگئے۔ اور جو وفات پاگئے تھے انکے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے اور عطا فرما دیئے۔ اور اس طرح آپ کو مال و دولت کے ساتھ ساتھ خدم و حشم بھی پھر مل گئے۔ سو جب انسان اپنے خالق ومالک کے ساتھ صدق و اخلاص کا معاملہ کرتا ہے تو وہ اس کو ایسے ہی نوازتا ہے کہ اس کا تو کام اور اس کی شان ہی نوازنا ہے اور مسلسل و لگاتار اور بلاحساب و گمان نوازنا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Top