Tafseer-e-Madani - Saad : 10
اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ
اَمْ لَهُمْ : کیا ان کے لیے مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا بَيْنَهُمَا ۣ : اور جو ان دونوں کے درمیان فَلْيَرْتَقُوْا : تو وہ چڑھ جائیں فِي الْاَسْبَابِ : رسیوں میں (رسیاں تان کر)
یا ان کے لئے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین اور اس (ساری کائنات) کی جو کہ ان دونوں کے درمیان میں ہے ؟ تو ان کو چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں (آسمان میں) رسیاں تان کر
12 منکرین کے دلوں پر ایک دستک : سو منکرین کے دلوں پر دستک دینے اور ان کے ضمیروں کو جھنجوڑنے کے لیے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو کہ سب پر غالب اور سب کو دینے بخشنے والا ہے ؟ یا انکے پاس آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی بادشاہی ہے ؟ "۔ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ان کو آپ ﷺ کے رب کی تقسیم و عطا پر سوال و اعتراض کا کیا حق ہوسکتا ہے ؟ وہ جس کو چاہے نبوت و رسالت کے شرف سے نوازے کہ وہی جانتا ہے کہ اس شرف عظیم اور منصب جلیل کا اہل کون ہوسکتا ہے ۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ } ۔ (الانعام : 124) ۔ سو نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی بادشاہی جس جیسی دوسری کسی بادشاہی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا وہ واہب مطلق جس کو چاہے عطا فرمائے۔ اس پر کسی کے لیے کسی طرح کے سوال و اعتراض کا کوئی حق بھلا کس طرح ہوسکتا ہے ؟۔ 13 منکرین کی تعجیز و تحقیر کے لیے ایک حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان کو اس طرح کا کوئی اختیار حاصل ہے تو یہ چڑھ جائیں آسمانوں میں رسیاں تان کر اور وہاں پہنچ کر یہ پیغمبر ﷺ پر ہونے والی وحی اور رحمتوں کی بارش کو بند کروا دیں۔ تو کیا یہ اس کا برتہ رکھتے ہیں ؟ سو یہ جب نہ تو آپ کے ربِّ عزیز و وہاب کے خزانوں کے مالک ہیں نہ آسمانوں اور زمین کی اس کائنات میں انکا کوئی حصہ یا عمل دخل ہے اور نہ ہی یہ اس برتے کے مالک ہوسکتے ہیں کہ یہ رسیاں تان کر آسمانوں میں چڑھ جائیں، تو انکو آخر اس بات کا کیا حق پہنچتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش پر اعتراض کریں کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں کو نبوت و رسالت سے کیوں سرفراز فرمایا اور فلاں کو کیوں نہیں اس سے نوازا وغیرہ وغیرہ۔
Top