Anwar-ul-Bayan - Saad : 10
اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ
اَمْ لَهُمْ : کیا ان کے لیے مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا بَيْنَهُمَا ۣ : اور جو ان دونوں کے درمیان فَلْيَرْتَقُوْا : تو وہ چڑھ جائیں فِي الْاَسْبَابِ : رسیوں میں (رسیاں تان کر)
کیا ان کے لیے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا اختیار حاصل ہے۔ سو چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر چڑھ جائیں۔
(اَمْ لَہُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا) (کیا ان کے قبضہ میں آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کی ملکیت ہے ؟ یعنی یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اجرام علویہ اور اجسام سفلیہ میں انہیں کچھ بھی دخل اور اختیار نہیں ہے پھر انہیں کیا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ملک اور ملکوت میں دخل دیں اور قادر مطلق جل مجدہ پر اعتراض کریں کہ فلاں کو کیوں نبوت دی (فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ ) ، آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان جو چیزیں ہیں اگر ان کے بارے میں کسی اختیار کا دعویٰ ہے تو سیڑھیوں کے ذریعہ اوپر چڑھ جائیں لیکن انہیں تو ذرا سا بھی اختیار نہیں پھر کیوں اعتراض کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں کیوں دخل دے رہے ہیں۔
Top