Anwar-ul-Bayan - Saad : 56
اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ
اَمْ لَهُمْ : کیا ان کے لیے مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا بَيْنَهُمَا ۣ : اور جو ان دونوں کے درمیان فَلْيَرْتَقُوْا : تو وہ چڑھ جائیں فِي الْاَسْبَابِ : رسیوں میں (رسیاں تان کر)
(یعنی) دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرام گاہ ہے
(38:56) جھنم۔ ماب کا بدل ہے۔ شرماب یعنی جہنم۔ یصلونھا : یصلون۔ مضارع جمع مذکر غائب صلی (باب سمع) مصدر سے۔ وہ داخل ہوں گے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے۔ یعنی وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ فبئس المھاد۔ المھاد والمھد گہوارہ جو بچے کے لئے تیار کیا جائے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ (19:29) ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیوں کر بات کریں۔ المھد والمھاد ہموار اور دست کی گئی زمین ہی کو کہتے ہیں اور فرش یا بچھونا کے معنی میں بھی آتا ہے مثلا الذی جعل لکم الارض مھدا (20:53) وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنادیا۔ یا الم نجعل الارض مھدا (78:6) کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا۔ اور یہ بھی فرمایا جعل لکم الارض فراشا (2:22) اور جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ فبئس المھاد۔ تو بہت برا یہ بچھونا ہے (بطور کنایہ جہنم کو بچھونا فرمایا) ۔ اور جگہ ارشاد ہے :۔ لہم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش (7:41) ان کے لئے دوزخ ہی کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہوگا۔
Top