Anwar-ul-Bayan - Saad : 10
اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ
اَمْ لَهُمْ : کیا ان کے لیے مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا بَيْنَهُمَا ۣ : اور جو ان دونوں کے درمیان فَلْيَرْتَقُوْا : تو وہ چڑھ جائیں فِي الْاَسْبَابِ : رسیوں میں (رسیاں تان کر)
یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان (سب) پر انہیں ہی کی حکومت ہے تو چاہیے کہ رسیاں تان کر (آسمانوں پر) چڑھ جائیں
(38:10) ام لہم۔ یہاں بھی ام مثل ام مذکورہ بالا کے ہے ای بل ألہم۔ آیت 9 میں رحمت کے خزانوں کا ذکر تھا۔ جس سے مراد نبوت و رسالت کی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نعمت روحانی ہے۔ اب اس آیۃ میں رحمت رب کے ایک ادنی اجزاء یعنی عالم مادی کا ذکر ہے یعنی روحانی نعمتوں کا ان کی ملکیت میں ہونا تو کجا ان کو تو اللہ کی ادنی سی نعمت ارض و سماء کے امور پر بھی تصرف حاصل نہیں۔ فلیرتقوا فی الاسباب : یہ جملہ جواب شرط میں ہے اور شرط محذوف ہے۔ ای ان کان لہم ما ذکر من الملک فلیصعدوا فی المعارج و المناھج الذی یتوصل بھا الی السموت فلیدبروھا ولیصرفوا فیہا فانھم لاطریق لہم الیٰ تدبیرھا والتصرف فیہا۔ اگر ارض و سماء اور مابین کے امور پر ان کا کوئی عمل دخل ہے تو سیڑھیاں لگا کر آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وہاں سے ان امور کا انتظام چلائیں اور ان میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کریں۔ لیکن ایسا نہیں ہے ان امور میں تصرف و تدبر کا ان کو ہرگز کوئی اختیار نہیں ہے۔ جواب شرط کے لئے ہے لیرتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ ارتقاء (افتعال) سے مصدر۔ تو ان کو چڑھ جانا چاہیے۔ ترقی (تفعل) زینہ زینہ چڑھنا۔ اسباب جمع سبب کی۔ سبب اصل میں اس رسی کو کہتے ہیں جس کے ذریعے درخت پر چڑھا جاتا ہے اس مناسبت سے ہر اس شے کا نام سبب ہوا کہ جو کسی دوسری شے کے توصل کا ذریعہ ہو۔ فلیرتقوا فی الاسباب تو ان کو چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں (یہ زجر وتوبیخ کے طور پر کہا گیا ہے اس بات کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز ہیں)
Top