Jawahir-ul-Quran - Saad : 10
اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ
اَمْ لَهُمْ : کیا ان کے لیے مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا بَيْنَهُمَا ۣ : اور جو ان دونوں کے درمیان فَلْيَرْتَقُوْا : تو وہ چڑھ جائیں فِي الْاَسْبَابِ : رسیوں میں (رسیاں تان کر)
یا ان کی13 حکومت ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے تو ان کو چاہیے کہ چڑھ جائیں رسیاں تان کر
13:۔ ام لہم الخ :۔ یا زمین و آسمان کی حکومت ان کے قبضہ میں ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے کاموں میں دخل دیتے ہیں تو پھر تمام ممکنہ اسباب کو بروئے کار لا کر ساری کائنات کا نظم ونسق چلائیں اور جسے چاہیں نبوت کے مقام پر فائز کر کے اس پر وحی نازل کریں یہ مشرکین کی خرافات پر تہکم و استہزاء ہے۔ نہ تو اللہ کی رحمت کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہیں۔ نہ زمین و آسمان کی حکومت ان کے قبضے میں۔ لیکن باتیں ایسی تعلی سے کرتے ہیں گویا سب کچھ ان کے اختیار میں ہے۔ وایاما کان ففی امرھم بذلک تھکم بہم لا یخفی (روح جلد 23 ص 169) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی اختیار چل سکتا ہے تو وہ آسمان پر چرھ جائیں اور وحی کو روک لیں۔ ای فلیصعدوا الی السموات ولیمنعوا الملائکۃ من انزال الوحی علی محمد (قرطبی ج 15 ص 153) ۔
Top