Urwatul-Wusqaa - Saad : 10
اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ
اَمْ لَهُمْ : کیا ان کے لیے مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا بَيْنَهُمَا ۣ : اور جو ان دونوں کے درمیان فَلْيَرْتَقُوْا : تو وہ چڑھ جائیں فِي الْاَسْبَابِ : رسیوں میں (رسیاں تان کر)
یا کیا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس پر ان کی حکومت ہے ؟ اگر ایسا ہے تو ان کو چاہیے کہ رسیاں تان کر (آسمان پر) چڑھ جائیں ، (اور وحی الٰہی کو روک دیں)
آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کیا اس پر ان کی حکومت ہے ؟ 10۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے نبوت و رسالت وہ نعمت اور وہ انعام تھا جو اس دنیا کے انعامات میں سے سب سے بڑھ کر تھا اور ظاہر ہے کہ ہر انعام کا مستحق ایک طرح کا انسان نہیں ہوتا بلکہ جو شخص جس انعام کا مستحق ہوتا ہے وہی انعام اس کو دیا جاتا ہے۔ ہاں ! یہ بات کہ وہ اس انعام کا مستحق کیوں ہے ؟ یہ انعام بانٹنے والے جو اصول اس کے لیے مقرر کیے ہیں ان اصولوں کے تحت ہی انسان اس کا مستحق ہوتا ہے اور نبوت و رسالت کے سوا باقی انعامات انسان کی آزمائش کے طور پر دیئے جاتے ہیں گویا دوسرے سارے انعامات میں اس آزمائش بھی ایک استحقاق ہے پھر نبوت و رسالت کے لیے بھی ضروری تھا کہ اس کے لیے کوئی اس کا مستحق ہو۔ کیا ان معترضین کے پاس آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس سب کا اختیار و حکومت ہے جس کے بل بوتے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس دنیا کے اختیارات تو ہمارے پاس ہیں اور یہ محمد کو رسول بنا کر اس دنیا میں کس نے بھیج دیا ہے اور کیسے بھیج دیا ہے ؟ نبوت کا مقام تو بہت اونچا ہے ہم نے تو ان لوگوں کو معمولی چیزوں کے دینے اور چھیننے کا بھی کوئی اختیار نہیں دیا۔ اگر یہ لوگ بزعم خویش کوئی قوت و طاقت اور اختیار رکھتے ہیں تو اسے کام میں لا کر عرش تک رسائی حاصل کریں اور وہاں قبضہ جما کر بیٹھ جائیں اور اس کائنات کی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیں اور اس طرح لوگوں کو دکھا دین کہ ان سارے انعامات پر حق ہمارا ہے اور ہمارے سوا کون ہے جس نے محمد ﷺ کو نبی ورسول بنا کر بھیج دیا ہے۔ یہ کرسکتے ہیں تو بسم اللہ کریں اور آج ہی اپنا کام شروع کریں۔ (فلیرتقوا) کا اصل مادہ ر ق ی ہے جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں الاسباب کی اصل س ب ب ہے جس کے معنی تعلق کے ہیں راستہ چونکہ منزل مقصود تک پہنچنے کا تعلق ہے اس لیے اس کو بیان کیا گیا یعنی آسمان کی طرف راستے یہ جانتے ہیں تو پھر ادھر بیٹھ کر باتیں کیوں بناتے ہیں اٹھیں اور آسمانوں پر چڑھ جائیں کیونکہ یہ راہیں تو ان کو معلوم ہی ہیں اسی لیے تو وہ اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ محمد ﷺ کو نبی ورسول کیسے بنا دیا گیا ؟
Top