Tafseer-e-Madani - Saad : 64
وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ
ثَمُوْدُ : اور ثمود وَقَوْمُ لُوْطٍ : اور قوم لوط وَّاَصْحٰبُ لْئَيْكَةِ ۭ : اور ایکہ والے اُولٰٓئِكَ : یہی وہ الْاَحْزَابُ : گروہ
اور ثمود قوم لوط اور ایکہ والوں نے بھی یہی ہیں وہ جھتے
16 " اصحاب الایکہ " سے مقصود و مراد ؟ : یعنی " گھنے درختوں اور جنگلوں والے "۔ مراد ہیں قوم شعیب کے لوگ۔ معلوم ہوتا ہے کہ مدین والوں کے پاس کوئی جنگل بھی تھا۔ اسی کی نسبت سے یہ لوگ اس نام سے مشہور ہوئے۔ اور اس سے مراد قوم شعیب ہے۔ اور ان ہی کو اصحاب مدین بھی کہا جاتا تھا۔ ان لوگوں نے بھی اپنے پیغمبر حضرت شعیب کی تکذیب کی اور ان کی دعوت و پیغام کو قبول نہ کیا۔ یہ بھی اپنے دور کی ایک بڑی ترقی یافتہ قوم تھی۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور ایک خاص تجارتی محلِّ وقوع پر واقع ہونے کے باعث یہ قوم خوب خوب کمایا کرتی تھی اور ہوس دنیا نے ان کو ناپ تول کی کمی کے جرم میں مبتلا کردیا تھا جو کفر و شرک کے علاوہ ان کا ایک اور قومی جرم بن گیا تھا۔ اور ان کے پیغمبر حضرت شعیب نے ان کو اس قومی جرم سے بھی روکا اور منع فرمایا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ۔ { فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَائَہُمْ } ۔ ( الاعراف : 85) مگر انہوں نے پیغمبر کی بات کو نہ مانا اور آخر کار اپنے ظلم کے نتیجے میں وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنْ کَانَ اَصْحَاب الاَیْکَۃَ لَظَالِمِیْنَ فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ } ۔ ( الحجر : 78 ۔ 79) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top