Tafseer-e-Madani - Saad : 12
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ
كَذَّبَتْ : جھٹلایا قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے قَوْمُ : قوم نُوْحٍ : نوح وَّعَادٌ : اور عاد وَّفِرْعَوْنُ : اور فرعون ذُوالْاَوْتَادِ : میخوں والا
جھٹلایا ان سے پہلے (حق اور حقیقت کو) قوم نوح عاد اور فرعون میخوں والے نے
15 تکذیبِ حق کے مجرموں اور ان کے انجام کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے پہلے قوم نوح، عاد اور فرعون میخوں والے نے بھی جھٹلایا "۔ " ذوالاوتاد " ۔ " میخوں والا " کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ اپنے مخالفوں کو چومیخا کر کے عذاب دیا کرتا تھا۔ یا یہ کہ اس کی حکومت و سلطنت ایسی مضبوط و مستحکم تھی کہ گویا میخوں سے زمین پر ٹھوک دی گئی ہو۔ یا یہ کہ اس کے عساکر اور لشکر اتنے زیادہ تھے کہ جہاں وہ ٹھہرتے وہاں خیموں کی میخیں ہی میخیں نظر آتیں وغیرہ۔ (خازن، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو یہ لفظ فرعون کی فوجوں کی کثرت اور اس کی قوت سے کنایہ ہے۔ جیسے " قدور راسیات " حضرت سلیمان کی سخاوت و فیاضی اور مہمان نوازی سے کنایہ ہے۔ سو تکذیبِ حق کے جرم میں یہ سب ہی لوگ شریک تھے اور آخرکار یہ سب ہی اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Top