Tafseer-e-Madani - Saad : 14
اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠   ۧ
اِنْ : نہیں كُلٌّ : سب اِلَّا : مگر كَذَّبَ : جھٹلایا الرُّسُلَ : رسولوں فَحَقَّ : پس آپڑا عِقَابِ : عذاب
ان میں سے ہر ایک نے جھٹلایا (اپنے تکبر و سرکشی کی بناء پر) میرے رسولوں کو سو آخرکار (ان میں سے ہر ایک پر) چسپاں ہو کر رہا میرا عذاب1
17 ہلاک و برباد ہونے والے جتھوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی ہیں وہ جھتے جنہوں نے حق کو جھٹلایا اور اس کو ماننے سے انکار کیا " اور یہ اس کی عداوت و دشمنی ہی پر کمربستہ رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جب عذاب الہی آیا تو ان جماعتوں اور گروہوں میں سے کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکا۔ سو اللہ کے عذاب سے وقت آنے پر کوئی بھی نہیں بچ سکتا۔ خواہ وہ کتنی ہی قوت اور جمعیت کیوں نہ رکھتا ہو۔ سو یہ اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ حضرات انبیاء و رسل اور ان کی دعوت کی تکذیب اور انکار کا نتیجہ و انجام بہرحال دائمی ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان بدبخت قوموں کی ہلاکت و تباہی اور ان کے اس ہولناک انجام کے اصل سبب کی تصریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں آخرکار ہمارا عذاب ان پر پکا ہو کر رہا "۔ سو ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنْ کُلٌّ الاَّ کَذَّبَ الرُّسَلَ فَحَقَّ عِقَاب } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تکذیبِ حق کے ہر شائبہ سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Top