Tafseer-e-Madani - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور (ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ) لے لو اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا (سو) تنکوں کا پھر مارو اس سے (اپنی بیوی کو) اور مت توڑو تم اپنی قسم کو بیشک ہم نے ان کو صابر پایا وہ بڑے ہی اچھے بندے تھے بیشک وہ ہمیشہ رجوع رہنے والے تھے (اپنے رب کے حضور)2
60 حضرت ایوب (علیہ السلام) کی ایک قسم اور اس سے ان کی بریت کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے حضرت ایوب کی ایک قسم اور اس سے ان کی بریت کی تعلیم و تلقین کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ روایات کے مطابق اپنی بیماری کے دوران حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کسی بات پر خفا ہو کر اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھالی تھی۔ بعد میں مشکل یہ پیش آگئی کہ اگر سو کوڑے مارتے ہیں تو بلاوجہ ایک بےقصور و بےگناہ خاتون کو سزا ملتی ہے۔ اور نہیں مارتے تو حانث ہونا پڑتا ہے۔ اور ظاہر کہ یہ دونوں باتیں مشکل تھیں۔ تو اس کا حل قدرت کی طرف سے آپ (علیہ السلام) کو یہ بتلایا گیا کہ سو تنکوں کا ایک مٹھا لے کر ان کو یکبارگی ان پر مار دو کہ اس طرح قسم بھی پوری ہوجائے گی اور ایک بےقصور و بےگناہ خاتون بھی سو کوڑوں کی سزا سے بچ جائے گی۔ اسی کو شرعی حیلہ کہا جاتا ہے جس کا مقصد کسی شرعی حکم کو ٹالنا نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل کرنا اور اس ارشاد دو حکم خداوندی کو بجا لانا منظور و مقصود ہوتا ہے۔ اور جو حیلہ کسی شرعی حکم کو ٹالنے اور اس سے بچنے کے لئے کیا جائے جیسا کہ بعض لوگ زکوٰۃ سے بچنے کے لئے مختلف حیلوں حوالوں سے کام لیتے ہیں تو وہ سراسر باطل و مردود ہے ۔ والتفصیل فی المفصل ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ اس مقام کی تفسیر کے بارے میں ایک عام اور مشہور قول ہے جس کو عام طور پر مفسرین کرام نے اختیار کیا ہے۔ لیکن بعض وجوہ و قرائن کی بنا پر یہ قول بہت بعید لگتا ہے۔ ایک تو اس لیے کہ اس کے لیے نہ تو قرآن پاک کی کسی آیت کریمہ میں کوئی تصریح پائی جاتی ہے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں۔ دوسرے اس لیے کہ روایات کے مطابق ابتلا و آزمائش کے اس دور میں حضرت ایوب کی بیوی ہی وہ اکیلی ہستی تھیں جو دن رات ان کی خدمت میں لگی رہتی تھیں۔ سو ایسی وفادار بیوی پر اس طرح کا عتاب عقل و نقل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ پھر سو کوڑوں کی تعداد کا ذکر بھی نہ آیت کریمہ میں پایا جاتا ہے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں۔ اس لیے اس بارے میں بعض اہل علم کی یہ بات زیادہ قرین قیاس اور اوفق بالظاہر لگتی ہے کہ یہ قسم دراصل حضرت ایوب نے خود اپنے نفس کو کوڑے لگانے کے لیے کھائی تھی۔ کیونکہ اس دوران آپ کے دل میں کوئی ایساخیال گزرا تھا جو صبر وانابت الی اللہ کے منافی تھا۔ تو آپ نے قسم کھائی کہ میں اپنے آپ کو اتنے کوڑے ماروں گا۔ اور کوڑوں کی کوئی تعداد مذکور نہیں۔ حضرت ایوب کا یہ عہد اگرچہ آنجناب کی خشیت خداوندی اور محبت الہٰی کا ایک منفرد قسم کا اور عظیم الشان نمونہ تھا۔ لیکن بندوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو کسی ناروا مصیبت میں ڈالیں اگرچہ وہ خداوند قدوس کی خوشنودی ہی کے لیے ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آنجناب کو اس قسم کی ذمہ داری سے بری قرار دے دیا لیکن قسم کا معاملہ چونکہ دین حنیف میں بڑی نزاکت و اہمیت کا حامل ہے کہ اسی پر تمام عہد و پیمان کا مدارو انحصار ہے۔ اس لیے حضرت ایوب کو ان کی قسم کے بارے میں یہ ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اتنے تنکوں کا مٹھا لے کر اپنے آپ کو مار لیں۔ تاکہ رسمی طور پر قسم پوری ہوجائے اور حانث نہ ہونا پڑے۔ اور یہ اسی طرح کی تشبیہی تعمیل ہے جس طرح کہ گنجا آدمی بھی احرام کھولنے کے لیے بال نہ ہونے کے باوجود سر پر استرا پھیرتا ہے یا جس طرح وضو کے متعذر ہونے کی صورت میں تیمم کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاکہ تشبیہ کے طور پر اصل حکم کی تعمیل ہو سکے ۔ والعلم عند اللہ - 61 حضرت ایوب کے لیے ایک عظیم الشان سند اور اعزاز کا ذکر : سو اس سے حضرت ایوب کے لیے کامیابی کی سند خداوندی کے عظیم الشان اور بےمثال انعام واعزاز کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت ایوب کے لیے ابتلاء و آزمائش کے اس امتحان میں کامیابی کی سند کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک ہم نے انکو صابر پایا "۔ اور ایسا صابر کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہیں مل سکتی۔ یہاں تک کہ صبر ایوب ضرب المثل بن گیا۔ اور مومن کی دو ہی تو حالتیں ہوتی ہیں کہ آرام و نعمت ملے تو حضرت منعم حقیقی ۔ جل و علا ۔ کا شکر ادا کرے اور تکلیف پہنچے تو صبر و برداشت سے کام لے۔ واضح رہے کہ حضرت ایوب کی بیماری اور ابتلا سے متعلق جو بہت سی بےسروپا داستانیں تصنیف کرلی گئی ہیں ان میں سے اکثر میں اس قدر مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا گیا ہے کہ وہ ناقابل یقین حد تک من گھڑت ہیں۔ حالانکہ اللہ پاک اپنے پیغمبر کو کسی ایسی ابتلاء و آزمائش میں نہیں ڈالتا جو ان سے تنفیر و تحقیر کا باعث بن جائے اور لوگ اس سے دورو نفور ہوجائیں کہ یہ ان کی شان کے بھی خلاف ہے اور ان کے منصب و مقام کے بھی۔ سو ایسی اسرائیلی روایات سے اجتناب و احتراز لازمی ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی جناب میں توہین اور سوئِ ادب کا پہلو نکلتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے حضرت ایوب کے لیے سند خداوندی کے ایک عظیم الشان اور بےمثال انعام کا اعلان فرمایا گیا ہے جو آنجناب کے سوا اور کسی کو نصیب نہیں ہوسکا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Top