Tafseer-e-Mazhari - Saad : 79
قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب فَاَنْظِرْنِيْٓ : پس تو مجھے مہلت دے اِلٰى : تک يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ : جس دن اٹھائے جائیں گے
کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے
قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون ابلیس بولا : تو اے میرے رب ! مجھے اس دن تک مہلت دے جس دن لوگوں کو زندہ کر کے قبروں سے اٹھایا جائے گا (یعنی روز قیامت تک) ۔ سابقہ جملہ اس جملہ کا سبب ہے اور فا سببت کیلئے ہے ‘ آدم کی دشمنی کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوجانا ہی اس مہلت طلبی کا سبب تھا تاکہ وہ بنی آدم کو اغواء کرسکے۔ اس جگہ فا سببت کیلئے ہے ‘ ابلیس کا سوال اس جواب کا سبب ہے۔
Top