Tafseer-e-Madani - Saad : 50
جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ
جَنّٰتِ : باغات عَدْنٍ : ہمیشہ رہنے کے مُّفَتَّحَةً : کھلے ہوئے لَّهُمُ : ان کے لیے الْاَبْوَابُ : دروازے
یعنی ہمیشہ رہنے کی ایسی عظیم الشان جنتیں جن کے دروازے ان (کے استقبال) کے لئے پہلے سے ہی کھول کر رکھے گئے ہوں گے
66 پرہیزگاروں کے عظیم الشان صلے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " جن کے لیے ہمیشہ رہنے کی ایسی عظیم الشان جنتیں ہونگی جن کے دروازے ان کے لیے پہلے سے ہی کھول کر رکھے گئے ہوں گے "۔ جس طرح کہ دنیا میں شاہی درباروں میں ہوتا ہے کہ شاہی مہمانوں کی آمد کے موقع پر ان کے لئے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے۔ سو اس طرح ایک طرف تو یہ مظہر ہوگا حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی اس عظیم الشان رحمت و عنایت کا جس کا معاملہ وہ اپنے ایسے پاکیزہ بندوں سے فرمائے گا۔ اور دوسری طرف اس میں خاص اعزازو اکرام ہوگا اہل جنت کا کہ فرشتے جنت کے دروازے کھولے ان حضرات کے انتظار میں کھڑے ہوں گے اور سلام و تحیہ سے انکا استقبال کریں گے۔ (کبیر، صفوۃ وغیرہ) ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اللہ کی رضا اور اہل جنت کی راہ پر چلنا نصیب ہو ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اہل جنت کے اس صلہ و بدلہ کو بیان فرما دیا گیا ہے جو ان متقی اور پرہیزگار بندوں کو وہاں نصیب ہوگا اور جس کا ذکر اور حسن مآب " بہترین ٹھکانہ " کے الفاظ سے فرمایا گیا ہے۔
Top