Tafseer-e-Mazhari - Saad : 15
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا، انتظار کرتے ہیں
وما ینظر ھولاء الا صیحۃ واحدۃ ما لھا من فواق اور یہ لوگ بس ایک چیخ کے (یعنی صور پھونکے جانے کے) منتظر ہیں جس میں دم لینے کی بھی گنجائش نہ ہوگی۔ ھٰٓؤُلَآء یعنی قریش کے کافر۔ صحیۃ واحدۃً صور پھونکے جانے کی آواز۔ مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ جب تک (قیامت کے) عذاب کو نہ دیکھ لیں گے ‘ نہیں مانیں گے لیکن اس وقت ایمان لانا بےسود ہوگا۔ فَوَاق (لغت قریش) فُوَاق (لغت بنی تمیم) دونوں لفظ آئے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ نے کہا : فواق کا معنی ہے : واپس ہونا۔ مجاہد نے ترجمہ کیا : مہلت۔ ضحاک نے کہا : فواق یعنی پھیرنا ‘ موڑنا۔ ابو عبیدہ اور فراء نے کہا : فواق کا معنی ہے آرام ‘ افاقہ (سکون اور ہوش) اور فواق اس وقفہ کو کہتے ہیں جو اونٹنی کو دوہنے اور پھر دودھ اتارنے کیلئے چھوڑ دینے اور پھر دوہنے کے درمیان ہوتا ہے۔ قاعدہ ہے کہ جانور کو پہلے دوہ لیا جاتا ہے ‘ جب تھنوں میں موجودہ دودھ سب نکل آتا ہے تو بچہ کو تھنوں کے نیچے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ بچہ کو پلانے کیلئے جانور دودھ دوبارہ اتارے۔ چناچہ بچہ کیلئے جانور دودھ اتارتا ہے ‘ یہ دیکھ کر دوہنے والا بچہ کو ہٹا لیتا ہے اور دوبارہ دوہ لیتا ہے۔ دونوں مرتبہ کے دوہنے کے وقفہ کو فواق کہا جاتا ہے ‘ یہاں مراد ہے مہلت اور بہت ہی قلیل مہلت۔ بعض علماء نے کہا : فواق کا کوئی معنی مراد ہو ‘ بہرحال مجازی اور بطور استعارہ ہوگا۔ دودھ دوبارہ تھنوں میں اتر آتا ہے ‘ مریض صحت کی طرف لوٹتا ہے۔ یعنی نفخ صور کے بعد دنیا میں واپسی نہ ہوگی ‘ یا صور کی آواز نہ واپس کی جائے گی ‘ نہ پھیری جائے گی ‘ یا قلیل مہلت بھی نہیں ملے گی ‘ یا افاقہ اور آرام نہیں ملے گا۔ کلبی نے کہا : جب سورت الحاقّہ میں اللہ نے فرمایا : فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہٗ بِیَمِیْنِہٗ 5 اور وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابِہٗ بِشِمَالِہٖ 5 تو مکہ کے کافروں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا : اے ہمارے رب ! ہمارا کاغذ تو ابھی دے دے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ سعید بن جبیر کی روایت میں حضرت ابن عباس کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔
Top