Mutaliya-e-Quran - Saad : 57
هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ
ھٰذَا ۙ : یہ فَلْيَذُوْقُوْهُ : پس اس کو چکھو تم حَمِيْمٌ : کھولتا ہوا پانی وَّغَسَّاقٌ : اور پیپ
یہ ہے اُن کے لیے، پس وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہو
ھٰذَا ۙ [یہ ہے (طاغین کے لئے)] فَلْيَذُوْقُوْهُ [پس چاہیے کہ وہ چکھیں اس کو ] حَمِيْمٌ [(یہ) کھولتا پانی ہے ] وَّغَسَّاقٌ [اور (یہ) پیپ ہے ] ۔ ترکیب : (آیت۔ 57) ۔ حمیم اور غساق کو ہم فلیذوقوہ کی ضمیر مفعولی ہُ کا بدل نہیں مان سکتے کیو کہ ایسی صورت میں یہ حالت نصب میں حمیم اور غساقا ہوتے۔ ان کی رفع بتارہی ہے کہ یہ خبریں ہیں۔ آیت کے شروع میں ہذا کو ان کا مبتدا مانا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں ہذا کے بعد وقف نہیں ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حزا کو مستقل اشارہ مانا جائے۔ ایسی صورت میں ھذا کے بعد وقف ہوگا جیسے آیت 55 کے شروع میں ھذا پر وقف ہے۔ اور حمیم وغساق سے پہلے ان کے مبتدا ھذا کو محزوف مانا جائے۔ ترجمہ میں ہم دوسری صورت کو ترجیح دیں گے۔ آیت 59 مرحبا کی صب ظرف ہونے کی وجہ سے ہے۔ آیت 60 قدمتموہ میں ضمیر مفعولی ہُ النار یا جہنم کے لئے نہیں ہوسکتی ورنہ ضمیر ھا آتی کیونکہ وہ مؤنث ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہُ کی ضمیر اس وقت کی مجموعی صورحال یعنی عذاب کے لئے ہے۔ آیت 61 قدم لنا ھذا میں اسم اشارہ ھذا بھی اس عذاب کے لئے ہے۔ آیت 63 اتخذنا در ااتخذنا ہے جس میں پہلا ہمزہ استفہامیہ ہے اور دوسرا افتعال کا ہے۔ قاعدے کے مطابق اتخذ کا ہمزۃ الوصل صامت ہونے کے ساتھ لکھنے میں بھی گرگیا ہے۔
Top